ٹینس میں واپسی پر شکست، برطانوی کھلاڑی کو سوشل میڈیا پر قتل کی دھمکیاں موصول

ٹینس میں واپسی پر شکست، برطانوی کھلاڑی کو سوشل میڈیا پر قتل کی دھمکیاں موصول

برطانیہ کی ٹینس کھلاڑی جوڈی بریج کو طویل عرصے بعد ڈبلیو ٹی اے (WTA) ٹور کے سنگلز مقابلوں میں واپسی پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم میچ کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر شدید بدسلوکی، توہین آمیز پیغامات اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

27 سالہ برطانوی ٹینس کھلاڑی چنئی اوپن کے پہلے راؤنڈ میں بھارت کی ویشنوی اڈکر کے خلاف میدان میں اتریں، جہاں انہیں سخت مقابلے کے بعد 3-6، 6-3 اور 7-5 سے شکست ہوئی۔ بھارتی کھلاڑی نے پہلا سیٹ ہارنے کے باوجود اگلے دونوں سیٹس میں کم بیک کرتے ہوئے کامیابی اپنے نام کی۔میچ کے بعد جوڈی بریج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہیں موصول ہونے والے توہین آمیز پیغامات اور دھمکیوں کو دکھایا گیا تھا۔ برطانوی کھلاڑی نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل وقفے کے بعد ٹینس میں واپسی پر انہیں جس طرح کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، اس نے انہیں دوبارہ یاد دلا دیا کہ انہوں نے ماضی میں کھیل سے دوری کیوں اختیار کی تھی۔جوڈی بریج کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کے بعد کھیلوں کی دنیا میں کھلاڑیوں کو آن لائن ہراسانی کا نشانہ بنانے کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔جرمنی کی ٹینس اسٹار ایوا لائس نے بھی برطانوی کھلاڑی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ڈبلیو ٹی اے حکام سے سوال کیا کہ آخر کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا پر ہراسانی اور دھمکیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کب کیے جائیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیشہ ور کھلاڑیوں کو کھیل میں کامیابی اور ناکامی دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن کسی میچ میں شکست کی بنیاد پر انہیں ذاتی حملوں، گالم گلوچ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔رپورٹس کے مطابق خواتین ٹینس کھلاڑیوں کو گزشتہ سال سوشل میڈیا پر 12 ہزار سے زائد توہین آمیز پیغامات موصول ہوئے، جس سے کھیلوں میں آن لائن ہراسانی کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ماہرین نے اس مسئلے کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی شناخت کی تصدیق لازمی بنانے اور دھمکی آمیز مواد کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کھیلوں سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ آن لائن بدسلوکی نہ صرف کھلاڑیوں کی نجی زندگی اور ذہنی سکون کو متاثر کرتی ہے بلکہ انہیں کھیل جاری رکھنے سے بھی بددل کر سکتی ہے۔ اس لیے متعلقہ کھیلوں کی تنظیموں اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔