امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی طرف سے غیر ملکی امداد کو 90 دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے جس کے اثرات جنوبی ایشیا کی مختلف ریاستوں پر پڑیں گے۔
اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان، افغانستان اور بنگلادیش میں اہم فلاحی اور امدادی پروگرام متاثر ہوں گے۔خصوصی طور پر افغانستان میں ایک ہزار سے زائد حاملہ خواتین کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں کی صحت کی سہولتیں اور امدادی سرگرمیاں امریکی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، امریکی فنڈنگ کی کمی سے ان ممالک میں صحت، تعلیم اور دیگر ضروری خدمات میں خلل پڑے گا۔پاکستان، افغانستان اور بنگلادیش کے لیے 30 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی امداد درکار ہے تاکہ ان ممالک میں جاری فلاحی منصوبوں کو جاری رکھا جا سکے۔
اگر یہ امداد نہیں ملتی تو لاکھوں افراد خصوصاً خواتین متاثر ہوں گی، جن کے لیے صحت کی خدمات، غذائی امداد اور دیگر ضروری سہولتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔امریکی فنڈنگ کی روک تھام کے نتیجے میں ان ممالک میں عورتوں اور بچوں کی صحت کی خدمات میں شدید کمی کا سامنا ہو گا، جس کے نتیجے میں ترقیاتی کاموں میں تاخیر اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں امریکا سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی امدادی پالیسی پر نظر ثانی کرے تاکہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں انسانی بحران مزید بڑھنے سے بچ سکے۔