افغان شہر ہرات میں خواتین کے حقوق کے حق میں ہونے والے احتجاج کے بعد اب یہ تحریک آن لائن مہم کی شکل اختیار کر گئی ہے۔
افغان جریدہ هشت صبح کے مطابق افغان خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے شہریوں نے سوشل میڈیا پر ایک منظم آن لائن احتجاجی مہم شروع کی ہے، جس میں بڑی تعداد میں افراد شامل ہو رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق طالبان حکام کی جانب سے ڈریس کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی پر متعدد خواتین کو حراست میں لیے جانے کے بعد یہ احتجاجی لہر مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جس پر ملک اور بیرونِ ملک سے لاکھوں افراد نے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے اس مہم میں شامل افراد اور حمایت کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغان خواتین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی قسم کی پابندیوں یا سخت اقدامات سے گریز کیا جائے۔