فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار،پنشن رعایت نہیں، آئینی حق ہے سپریم کورٹ

 پینشن دیر سے مانگنے پر حق ختم نہیں ہوتا  ، پینشن پر لمیٹیشن ایکٹ لاگو نہیں ہوتا، اٹارنی جنرل کی ریگولیشن 418 کی بنیاد پر مخالفت درست نہیں
  اسلام آباد ( آن لائن )سپریم کورٹ آف پاکستان نے پینشن سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے  محمد عثمان کی پینشنری فوائد کی درخواست منظور  کر لی ہے۔ عدالت نے واضح کیا   پینشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے ۔سپریم کورٹ نے فیڈرل سروس ٹریبونل  کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جس میں درخواست گزار کی پینشن مسترد کی گئی تھی۔ عدالت کے مطابق، محمد عثمان نے **ستمبر 2007 میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا  اور اس وقت انہوں نے  بیسی سالہ کوالیفائنگ سروس مکمل کر رکھی تھی ، جو قانون کے مطابق پینشن کے لیے کافی تھی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ محکمہ اور ٹریبونل کی تشریح، جس میں  پچیس سالہ سروس شرط  رکھی گئی تھی، قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں 2001 کی ترمیم کے تحت پینشن کے لیے اہلیت سروس 25 سال سے کم کرکے بیس سال کر دی گئی تھی ۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پینشن دیر سے مانگنے پر حق ختم نہیں ہوتا  اور پینشن پر لمیٹیشن ایکٹ لاگو نہیں ہوتا۔عدالت نے مزید کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کی گئی  ریگولیشن 418 کی بنیاد پر مخالفت درست نہیں، کیونکہ یہ ریگولیشن صرف سروس کی گنتی سے متعلق ہے۔