جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 110 فلسطینی شہید، غزہ پر تشویش کی فضا

جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 110 فلسطینی شہید، غزہ پر تشویش کی فضا

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد بھی اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں 110 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

 جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے رکنے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، اور ان میں 28 بچوں سمیت 110 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 246 زخمی ہوئے ہیں۔غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد فلسطینی عوام نے جشن منایا، مگر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اپنے اتحادیوں اور دائیں بازو کی قوتوں سے شدید دباؤ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیلی کابینہ نے ابھی تک جنگ بندی معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دی ہے۔ اس حوالے سے اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنے اتحادیوں سے ملاقات کی ہے اور کابینہ کے اجلاس میں اس معاہدے کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان دو دن قبل جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد قطر کے وزیراعظم نے اس معاہدے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔ معاہدے کے مطابق جنگ بندی چھ ہفتوں تک جاری رہنی ہے اور اس کے عمل درآمد کو تین مراحل میں تقسیم کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں سویلین قیدیوں کا تبادلہ ہوگا اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فورسز کے قیدی حماس کو حوالے کیے جائیں گے اور غزہ کے عوامی مقامات سے اسرائیلی فوج کا انخلا ہوگا۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں اسرائیلی فورسز کا غزہ سے مکمل انخلا اور غزہ کی تعمیر نو پر کام کیا جائے گا۔