190 ملین پاؤنڈ کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہے:عطاتارڑ

190 ملین پاؤنڈ کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہے:عطاتارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاتارڑ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہے۔

 اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر وفاقی وزیر قانون کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاتارڑ نے کہا کہ عمران خان کے وکیل صفائی نے بے گناہی کے ثبوت پیش نہیں کیے اور نہ ہی کرپشن کے حوالے سے کوئی مناسب جواب دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے گھناؤنے جرائم کو مذہب کارڈ کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی گئی، اور اس کیس کو سیاسی بنیادوں پر لڑا گیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر جگہ مذہب کارڈ اور ریاست مدینہ کا نام استعمال کرتی ہے، تاہم قانونی طور پر اس کیس کا جواب دینا ضروری ہے۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کا فیصلہ سب سے بڑا ڈاکہ ہے جس سے فرار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج انصاف کا بول بالا ہوا ہے، اور یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اپیل کا حق حاصل ہے لیکن انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کرپشن نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کو مذہب کو اپنی کرپشن اور گھناؤنے جرائم چھپانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ سزا بالکل قانون اور ثبوت کے مطابق ہے اور آج کے بعد پاکستان میں اتنی میگا کرپشن کرتے ہوئے کئی بار سوچا جائے گا۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی فیصلے پر ردعمل دیا اور کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اس فیصلے میں بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاملے کو سیاست سے جوڑنا درست نہیں ہے اور کہا کہ شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ ایک خفیہ معاہدہ تھا اور غیرقانونی طور پر پیسہ وطن سے بھیجا گیا، جو عوام کا تھا۔ وزیر قانون نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ یہ کیس صرف قانونی بنیادوں پر لڑا جانا چاہیے اور سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔اس فیصلے کے بعد حکومتی حلقوں میں اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام اور ناانصافی قرار دیا ہے۔