190 ملین پاؤنڈ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق، عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹسز کا مرتکب پایا گیا اور انہیں 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔بشریٰ بی بی کو کرپشن میں سہولت کاری اور معاونت پر مجرم قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی گئی ہے۔ مزید برآں، القادر ٹرسٹ کی پراپرٹی وفاقی حکومت کے سپرد کی گئی ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دونوں مجرموں کو 4 مارچ 2021 کو ڈونیشن قبول کرنے کی دستاویز پر دستخط کرنے پر نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کیس کا زیادہ تر دارومدار دستاویزی ثبوتوں پر تھا اور شہادتوں کے جواب میں ملزمان کے وکلاء دفاع فراہم کرنے میں ناکام رہے۔یہ فیصلہ پراسیکیوشن کے حق میں گیا ہے جس نے اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس فیصلے کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی ٹیم نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔