اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے معاملات پر غور کیا گیا۔
کارروائی کی تفصیلات
عمران خان کی پیشی: عمران خان عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ بشریٰ بی بی غیر حاضر رہیں۔
وکیل کی یقین دہانی: بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو تحریری بیان جمع کرواتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش ہوں گی۔
بیانِ حلفی: وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کے 342 کے بیانات تین سماعتوں میں مکمل کر لیے جائیں گے، اور اس پر مزید تاخیر نہیں ہوگی۔
نیب کا موقف: نیب کے وکیل سردار مظفر عباسی نے کہا کہ مقدمہ ایک سال سے زیرِ التوا ہے، اور ملزمان کو کافی مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔
پیشی سے استثنا کی درخواست
بشریٰ بی بی کی جانب سے عدالت میں پیشی سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی۔نیب نے اس درخواست کی مخالفت کی اور ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی عمل درآمد رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی۔نیب کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے لیے کوشش کی گئی، لیکن وہ اپنے فراہم کردہ ایڈریس پر موجود نہیں تھیں۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ برقرار رکھے۔بشریٰ بی بی کے ضمانتی کو دوبارہ نوٹس جاری کیے گئے۔وکلا صفائی کی انڈرٹیکنگ منظور کرتے ہوئے عدالت نے سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
نیب کے اعتراضات
نیب نے نشاندہی کی کہ:
کیس کی سماعت میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔تفتیشی افسر پر جرح کے لیے 38 مواقع دیے جا چکے ہیں۔342 کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے 8 مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
پس منظر
190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزامات ہیں کہ انہوں نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ عدالت اس مقدمے کو تیزی سے نمٹانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ وکلا صفائی کیس میں مزید وقت طلب کر رہے ہیں۔
اگلی سماعت
5 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں بشریٰ بی بی کی عدالت میں پیشی متوقع ہے، اور وکلا صفائی کو مقررہ مدت میں تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔