پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے 190 ملین پاؤنڈز کے ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا سیاہ دن ہے، کیونکہ پیسہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں آیا، لیکن بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کا اس پیسے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوال تو حسن نواز سے پوچھنا چاہیے تھا کہ وہ یہ پیسہ باہر کیسے لے گئے، اور ہم اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا کہ اس کیس میں نہ بانی پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا نہ بشریٰ بی بی کو، بلکہ انہیں اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ انہوں نے القادر یونیورسٹی بنائی جہاں سیرت نبویؐ پڑھائی جانی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اس ملک کو لوٹتے رہے وہ باہر ہیں اور جو اس ملک کے ساتھ مخلص تھے وہ جیل میں ہیں، اور ہم اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
اس سے قبل، اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔ فیصلے کے بعد، بشریٰ بی بی کو کمرۂ عدالت سے تحویل میں لے لیا گیا۔پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کے خلاف ہیں، اور وہ اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔