23 سالہ انفلوئنسر ڈیمیانو البرتی کینسر سے طویل جدوجہد کے بعد چل بسے

23 سالہ انفلوئنسر ڈیمیانو البرتی کینسر سے طویل جدوجہد کے بعد چل بسے

 اطالوی انفلوئنسر ڈیمیانو البرتی 23 سال کی عمر میں کینسر سے طویل جدوجہد کے بعد انتقال کر گئے۔

ان کے اہلِ خانہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کی وفات کی تصدیق کی۔ 16 فروری کو انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے پیغام میں خاندان نے جذباتی انداز میں لکھا کہ ’’ہم میں سے ایک حصہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گیا، ڈیمیانو اب اُن تمام تکالیف سے آزاد ہیں جن سے وہ گزر رہے تھے۔‘‘ اہلِ خانہ نے اس مشکل سفر میں ساتھ دینے پر مداحوں اور حمایتیوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔بیان میں کہا گیا کہ ڈیمیانو اپنی آن لائن کمیونٹی سے بے حد محبت کرتے تھے اور سوشل میڈیا پر اپنے کام پر فخر محسوس کرتے تھے۔ پیغام کے ساتھ ان کی مسکراتی ہوئی تصویر بھی شیئر کی گئی۔ خبر سامنے آتے ہی مداحوں نے کمنٹس میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ ڈیمیانو البرتی کے انسٹاگرام پر ہزاروں فالوورز تھے، جہاں وہ لائف اسٹائل سے متعلق مواد شیئر کرتے اور مداحوں سے قریبی رابطے میں رہتے تھے۔ مئی 2023ء میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں ٹانگ میں مہلک رسولی کی تشخیص ہوئی ہے اور اسی وجہ سے وہ کچھ عرصے کے لیے سوشل میڈیا سے دور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ یہ خبر ان کے لیے بہت بھاری تھی، تاہم وہ پُرامید تھے اور ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج کروا رہے تھے۔