مقصد آبی وسائل کی منصوبہ بندی، ترقی اور انتظام کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے
اسلام آباد (آن لائن) پاکستان میں آبی وسائل کے مؤثر انتظام اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آئی ایچ ای ڈیلفٹ انسٹی ٹیوٹ فار واٹر ایجوکیشن کا اعلیٰ سطحی وفدتین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ آبی وسائل کے مطابق اس دورے کا مقصد آبی وسائل کی منصوبہ بندی، ترقی اور انتظام کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔وزارتِ آبی وسائل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفد کی قیادت پروفیسر گراہم جیوٹ کر رہے ہیں جبکہ Netherlands کے سفیر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ حکام کے مطابق نیدرلینڈز کو آبی نظم و نسق، ڈیلٹا مینجمنٹ اور فلڈ کنٹرول کے شعبوں میں عالمی سطح پر نمایاں مہارت حاصل ہے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں جدید اور مؤثر آبی حکمت عملیوں کو فروغ دیا جائے گا۔دورے کے دوران وزارتِ آبی وسائل اور آئی ایچ ای ڈیلفٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے گئے۔ معاہدہ آبی وسائل کی منصوبہ بندی، ترقی اور انتظام میں پیشہ ورانہ تربیت، استعداد کار میں اضافے اور ادارہ جاتی مضبوطی پر مرکوز ہے۔وزارت کے مطابق ایک قومی سطح کی تکنیکی ورکشاپ بھی منعقد کی جائے گی جس میں ملک بھر کے آبی اداروں اور جامعات کے نمائندے شرکت کریں گے۔ ورکشاپ کے دوران ایم او یو پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل روڈمیپ کو حتمی شکل دی جائے گی۔وفاقی وزیر برائے آبی وسائل، معین وٹونے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان یہ شراکت داری نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت مثال قائم کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی آبی منصوبہ بندی میں شفافیت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پائیدار آبی نظم و نسق اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بین الاقوامی تجربات اور جدید تکنیکی مہارت کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ آبی وسائل کے افسران اور ماہرین کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک جامع پروگرام تیار کیا جائے گا تاکہ ادارہ جاتی صلاحیت میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔حکام کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان آبی شعبے میں طویل المدتی اور نتیجہ خیز تعاون کی راہ ہموار کرے گا، جس سے پاکستان میں پانی کے مؤثر اور پائیدار استعمال کو فروغ ملے گا۔