اگر 70 فیصد افراد نوکری کے خواہاں ہوں تو سرکاری سطح پر صرف 2 فیصد کو ہی روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے‘ 10 فیصد افراد کو بھی سرکاری ملازمت دینا ممکن نہیں ہے
نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہی بے روزگاری کا واحد پائیدار حل ہے‘دیہی علاقوں کے نوجوان 77 برس سے ملک کی خدمت کر رہے ہیں، انہیں قومی ادارے میں شامل کرنا چاہیے
ٹیوٹا نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تکنیکی تعلیم فراہم کر رہا ہے‘ تمام گریجویٹس کے امتحانات سی ڈی اے کے تحت لئے گئے ہیں طلبہ کو عملی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے:بریگیڈیئر (ر) محمد ساجد کھوکھر
لاہور (خصوصی رپورٹر) حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر بھی تمام نوجوانوں کو نوکریاں فراہم نہیں کر سکتے، اس مسئلے کا واحد پائیدار حل نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہے۔بے روزگاری ایک سنجیدہ اور تشویشناک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ ڈگری یافتہ نوجوان بھی روزگار سے محروم ہیں، ایسے میں فروغِ ہنر ناگزیر ہو چکا ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نجی ہوٹل میں ٹیوٹا ہاسپیٹیلٹی پاس آؤٹس کے لیے منعقدہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہنر مند پروگرام کے تحت پہلے سالانہ کانووکیشن سے خطاب۔ انہوں نے کہا اگر 70 فیصد افراد نوکری کے خواہاں ہوں تو سرکاری سطح پر صرف دو فیصد کو ہی روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ دس فیصد افراد کو بھی سرکاری ملازمت دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے تکنیکی تعلیم میں اردو زبان کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو کو نظر انداز کرنے سے آنے والی نسلیں اپنی قومی زبان سے محروم ہو جائیں گی۔۔ سپیکرملک محمد احمد خان نے کہا کہ دیہی علاقوں کے نوجوان گزشتہ 77 برس سے ملک کی خدمت کر رہے ہیں، تاہم انہیں قومی ادارے میں شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیوٹا کو اضلاع اور تحصیل کی سطح پر تکنیکی تعلیم کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ٹیوٹا بریگیڈیئر (ر) محمد ساجد کھوکھر نے کہا ٹیوٹا نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تکنیکی تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام گریجویٹس کے امتحانات سی ڈی اے کے تحت لیے گئے ہیں جبکہ ہوٹل انڈسٹری کے ساتھ معاہدوں کے تحت طلبہ کو عملی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیوٹا میں ہاسپیٹیلٹی کے شعبے میں ڈپلومہ ڈگری پروگرام متعارف کرایا گیا ہے۔سیکرٹری سکل ڈویلپمنٹ نادر چھٹہ نے کہا کہ میراکین کے تعاون سے 56 کوکنگ کلاسز کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرا کین کے تحت کوکنگ کی تربیت حاصل کرنے والے 92 طلبہ میں سے 47 کو مختلف اداروں میں روزگار مل چکا ہے جبکہ متعدد طلبہ بیرون ملک جا کر پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ چیئرمین سکل ڈویلپمنٹ ٹاسک فورس عدنان افضل چھٹہ نے کہا کہ ہاسپیٹیلٹی سیکٹر کی عالمی سطح پر بھرپور ڈیمانڈ ہے اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں اس شعبے میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چھ ماہ کی تربیت کے بعد طلبہ کو ایسا سرٹیفکیٹ فراہم کیا جا رہا ہے جس کی بین الاقوامی مارکیٹ ویلیو 190 پاؤنڈ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ایڈوانس آئی ٹی اور "AI"ٹریننگ پروگرام بھی متعارف کروائے جائیں گے جبکہ پنجاب بھر میں 14 لیبز کے ذریعے مختلف ہنرمند شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔