رباب گل
ہر ذی شعور انسان اپنی سرزمین سے ایک فطری اور قلبی انسیت رکھتا ہے اور کیوں نہ رکھے کہ یہی مٹی اس کی پہلی جائے سکونت، اولین درس گاہ اور آخری منزل ہوتی ہے۔ وطن کی خاک محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ وہ دھرتی ہے جو خوابوں کی تعبیر کی امین ہوتی ہے۔ مگر یہ خواب صرف اسی وقت حقیقت کا روپ دھارتے ہیں جب نوجوان نسل بیداری، ہمت اور شعور کے اسلحے سے لیس ہو ورنہ یہ خواب دھندلی خواہشات بن کر رہ جاتے ہیں۔
نوجوان کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ، جدوجہد اور ولولہ ہی کسی ملت کی تقدیر کو روشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو معلوم ہوگا کہ کسی بھی قوم کی عظمت اس وقت نمایاں ہوئی جب ان کے نوجوانوں نے اپنی توانائیوں کو تعمیری مقاصد کے لیے وقف کیا۔ مسلمانوں کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ سر سید احمد خان جیسے دور اندیش رہنما نے نوجوانوں کی فکری تربیت کی اور علامہ اقبال نے ان کے مردہ دلوں میں امید کے چراغ روشن کیے۔ یہی نوجوان تھے جو شعور، اتحاد اور جدوجہد کے ذریعے غلامی کے طوق کو اتار پھینکنے میں کامیاب ہوئے۔
لیکن افسوس کہ آج کے نوجوان اس بلند معیار سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔ جدید دور کے چکاچوند نے ان کی بصیرت کو ماند کر دیا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور بے مقصد مشاغل نے ان کے ذہن و دل کو پراگندہ کر دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جو کبھی علم و حکمت کا ذریعہ بن سکتی تھی، آج ان کی زندگیوں کو جمود کی زنجیروں میں جکڑ چکی ہے۔
اگر مزید گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوگا کہ آج کا نوجوان اپنی اقدار اور شناخت سے بیگانہ ہو چکا ہے۔ اسلامی تعلیمات، جو ان کی اخلاقی تربیت اور کامیابی کی کنجی تھیں، ان کے نزدیک محض ماضی کا ایک باب بن چکی ہیں۔ وہ نہ تو دین کے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا رہے ہیں اور نہ ہی دنیاوی تعلیم کو صحیح معنوں میں اپنا رہے ہیں۔
معاشرتی رویوں نے بھی اس تباہی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جب نوجوان اپنے مسائل کے حل کے لیے بزرگوں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ان کے مسائل کو یا تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا پھر ان پر غیر ضروری سختی کی جاتی ہے۔ ایسے میں یہ نوجوان یا تو مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں یا باغیانہ روش اختیار کر لیتے ہیں۔
مزید برآں، ملکی حالات بھی ان کے حوصلے پست کرنے میں کسی سے کم نہیں۔۔۔ بے روزگاری، مہنگائی اور وسائل کی کمی نے ان کے خوابوں کو چکناچور کر دیا ہے۔ ایک غریب نوجوان جس کا دن محنت مزدوری میں گزرتا ہے، وہ ایک وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے میں ناکام رہتا ہے، چہ جائیکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا بہترین ذہن مغربی ممالک کا رخ کر رہا ہے، جہاں ان کی صلاحیتوں کو بہتر مواقع میسر ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ حالات ناقابلِ اصلاح ہیں؟ کیا ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ اجاگر نہیں کر سکتے؟ تو قارئین! جواب ہے۔۔۔ بالکل کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے ایک منظم اور مربوط حکمت عملی درکار ہے۔ ان کی فکری تربیت، کردار سازی اور اخلاقی اصلاح ضروری ہے۔ انہیں یہ باور کرانا ہوگا کہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی شعور بھی کامیابی کے لیے لازم ہے۔
یہ نوجوان ہی ہیں جو اپنے مضبوط ارادوں، بلند حوصلوں اور نیک نیتوں کے ذریعے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنی ذات کی اصلاح کریں، اپنی توانائیوں کو تعمیری کاموں میں لگائیں اور اپنی قوم و ملت کے لیے جینا سیکھیں۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب نیتیں خالص ہوں اور مقاصد نیک، تو اللہ کی مدد ہر قدم پر شاملِ حال ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"?ِنَّ اللَّ?َ لَا ?ْغَ?ِّرْ مَا بِقَو?مٍ حَتَّ? ?ْغَ?ِّرْوا مَا بِ?َنفْسِ?ِم?" (الرعد: 11)
(بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔)
یہ آیت ہمارے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔ اگر وہ اپنی ذات کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جائیں، اپنی فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور دین و دنیا کی تعلیمات کو ہم آہنگ کریں، تو کوئی طاقت انہیں کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو وہ مواقع دینا ہوں گے جن کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ انہیں یقین دلانا ہوگا کہ یہ ملک ان کا ہے اور اس کی تعمیر و ترقی ان کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر آج ہم نے ان کی اصلاح اور رہنمائی کا بیڑا اٹھایا تو کل یہی نوجوان اس ملک کا روشن اور تابناک مستقبل ثابت ہوں گے۔
لہٰذا۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی توجہ ان معمارانِ ملت پر مرکوز کریں، ان کے مسائل کو سمجھیں اور ان کے لیے ایسے مواقع فراہم کریں جو ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ نوجوان وہ چراغ ہیں جو اگر صحیح سمت میں روشن کیے جائیں تو نہ صرف اپنے وطن کو بلکہ پوری دنیا کو منور کر سکتے ہیں۔