سیلاب متاثرین کیلئے 200 گھر تعمیرکئے جارہے ہیں،وزیراعلی گلگت بلتستان

گلگت بلتستان قدرتی آفات کی زد میں ،ہر سال کلائو ڈ برسٹ اور سیلاب کے باعث متعدد گھر تباہ ہوجاتے ہیں ،
بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے بھی انتہائی اہم ثابت ہوگا، امجد حسین ایڈووکیٹ
گلگت(آئی این پی )وزیراعلی گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے تعاون سے قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کیلئے 200 گھر تعمیرکئے جارہے ہیں۔ وزیراعلی امجد حسین ایڈووکیٹ کو محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے ڈونرز کے تعاون سے شروع کیے جانے والے 16 ارب روپے لاگت کے کلائمیٹ ریزیلینس پروجیکٹ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ منصوبے کے تحت گلگت بلتستان میں ماحول دوست اور محفوظ تعمیرات، صاف پانی کی فراہمی، سیوریج سسٹم اور آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی سمیت متعدد منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی امجد حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی آفات کی زد میں ہے، جہاں ہر سال کلائو ڈ برسٹ اور سیلاب کے باعث متعدد گھر تباہ ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ ہونے والے شہریوں کے مکانات کی جگہ محفوظ گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ وزیراعلی نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے گزشتہ سال بوبر کے سیلاب متاثرین کے لئے ایک کالونی قائم کی گئی تھی، جبکہ رواں سال سندھ حکومت کے تعاون سے قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کیلئے 200 گھر تعمیر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مستقبل میں بھی قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی بحالی اور انہیں محفوظ چھت کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ کلائمیٹ ریزیلینس پروجیکٹ کے تحت قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کے لئے محفوظ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شامل کیا جائے۔