منصوبہ ادھورا، مزید 758الیکٹرک بسیں نہ چل سکیں

 مالی سال 2025-26 میں 1100 بسیں چلانے کا ہدف تاحال نامکمل
 پائیدار پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے لیے کم از کم 3500 بسوں کی ضرورت
لاہور ( کرائم رپورٹر )پنجاب حکومت کا الیکٹرک بسوں کا بڑا منصوبہ اہداف سے پیچھے رہ گیا،مالی سال 2025-26 میں 1100 بسیں چلانے کا ہدف تاحال مکمل نہ ہو سکا،پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی صرف 342 بسیں سڑکوں پر لا سکی،اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ منصوبہ رفتار پکڑنے کے بجائے سست روی کا شکار ہے،ذرائع کے مطابق ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور جدید شہری ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے شروع کیا گیا الیکٹرک بسوں کا منصوبہ عملی میدان میں مطلوبہ نتائج نہ دے سکا ۔ حکومت نے مالی سال 2025-26 کے دوران 1100 الیکٹرک بسیں چلانے کا ہدف مقرر کیا تھا، جسے دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 600 اور دوسرے مرحلے میں مزید 500 بسیں شامل کی جانی تھیں، تاہم پیش رفت اس رفتار سے نہ ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔پنجاب بھر میں اب تک صرف 342 الیکٹرک بسیں آپریشنل ہو پائی ہیں، جو مجموعی ہدف سے 758 بسیں کم ہیں۔ یہ فرق نہ صرف منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے درمیان خلا کو ظاہر کرتا ہے بلکہ شہری ٹرانسپورٹ کے نظام میں موجود چیلنجز کو بھی نمایاں کرتا ہے۔لاہور میں 27 الیکٹرک بسیں چلائی جا رہی ہیں، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی محدود سطح پر سروس فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں 24، مظفر گڑھ میں 12 اور میانوالی میں 15 بسیں چل رہی ہیں۔ اسی طرح وزیر آباد میں 15، سرگودھا میں 33 اور پاکپتن میں 15 بسیں فلیٹ کا حصہ ہیں۔مزید اضلاع کی بات کی جائے تو فیصل آباد میں 30، ساہیوال میں 16 اور چکوال میں 15 بسیں آپریشنل ہیں، جبکہ جھنگ میں 25، بہاولنگر اور جہلم میں 15، 15 بسیں سروس دے رہی ہیں۔ رحیم یار خان میں 18، بہاولپور میں 22 اور راجن پور میں 15 بسیں چلائی جا رہی ہیں۔ گوجر خان اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی 15، 15 بسوں پر مشتمل فلیٹ موجود ہے۔پنجاب میں مئوثر اور پائیدار پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم قائم کرنے کے لیے کم از کم 3500 بسوں کی ضرورت ہے۔ موجودہ تعداد اور درکار بسوں کے درمیان واضح فرق اس شعبے کو درپیش بڑے چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔مالی سال کے اختتام میں صرف تین ماہ باقی ہیں، جبکہ مزید بسوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ حکومتی مئوقف ہے کہ آنے والے مہینوں میں رفتار تیز کرتے ہوئے بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، تاہم زمینی حقائق اس وقت اہداف اور کارکردگی کے درمیان نمایاں فرق کو ظاہر کر رہے ہیں۔