شارٹ فال 5700میگا واٹ سے تجاوز، پانی کی قلت،گیس پریشر کم، ، آج سے بجلی سپلائی بہتر :وزیر توانائی
لاہور،کراچی ،پشاور،اسلام آباد(کرائم رپورٹر،بیورو رپورٹ)لاہور سمیت ملک کے بھر میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی بجلی کی طلب میں بھی اضافہ، توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا، مختلف شہروں میں 6 سے8، دیہی علاقوں میں 10سے 12گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری، شہری شدید پریشانی کا شکار ،دوسری طرف وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے سے گیس کی قلت ہے، گیس نہ آنے کے سبب بجلی کے پاور پلانٹس نہیں چل رہے ، پیک آورز میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر عوام سے معذرت چاہتے ہیں، آج سے بجلی کی سپلائی بہتر ہوجائے گی۔تفیصلات کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 5ہزار 726میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے ،پیداوار 14ہزار 274میگاواٹ جبکہ طلب 20ہزار میگاواٹ ہے ۔دوسری جانب پاکستان میں ایل این جی امپورٹ صفر ہونے سے ایل این جی پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار رک گئی ہے۔ذرائع کے مطابق حویلی بہادر شاہ، بھیکی اور نندی پور پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ، ساہیوال پاور پلانٹ کی پیداوار بھی تقریباً بند ، 969میگاواٹ نیلم جہلم سے بھی بجلی پیدا نہیں ہو رہی۔ دریں اثناء لاہور سمیت لیسکو ریجن میں بھی رات کے اوقات میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری رہا ،لیسکو کی رات میں طلب 29سو سے 3 ہزار میگاواٹ تک رہی، شارٹ فال شام میں اوسط 850 سے 900 میگاواٹ تک ہے۔ذرائع کے مطابق شہر میں 3 سے 4 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 گھنٹے سے زائد ہے،غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے شہری پریشان ہوکر رہ گئے۔علاوہ ازیں دیگر مختلف شہری علاقوں میں6سے8جبکہ دیہی علاقوں میں10سے12گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ بجلی کی بندش سے ٹیوب ویلز چلنے کا شیڈول بھی متاثر ہو رہا ہے جس سے پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی اور لوگوں کو پینے کے پانی کے حصول میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔کراچی میں گرمی کی شد ت میں اضافہ کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10 گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔میٹرک امتحانات کے دوران متعدد امتحانی مراکز پر بھی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ 3 روز کے دوران نسبتا ًگرم دن رہنے کے امکان ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 تا 35 ڈگری کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ خیبرپختونخوا میں بجلی کا طویل بریک ڈائو ن جاری ہے۔ ترجمان پیسکو نے کہا ہے کہ جنریشن شارٹ فال کے باعث یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ اس وقت پیسکو کی مجموعی طلب 2000 میگاواٹ جبکہ سپلائی 1351 میگاواٹ تک محدود ہے، جس کے باعث طلب اور رسد میں واضح فرق پیدا ہو گیا ۔ اسی وجہ سے شیڈول کے علاوہ 3 سے 4 گھنٹے اضافی لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔وزیر توانائی نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ پچھلے کچھ دنوں میں ہی ہوئی ورنہ ہمارے تمام پلانٹس آپریشنل ہیں ، ہر سال جو لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اتنی لوڈ شیڈنگ ابھی نہیں ہوئی ، ہم پیک آورز میں گیس سے بجلی پیدا نہیں کرسکتے ، پن بجلی میں بھی 1530 میگاواٹ کی قلت کا سامنا ہے ، اپریل کے پہلے پندرہ دنوں میں بجلی کی یومیہ طلب 15 سے 20ہزار میگا واٹ رہی، ایل این جی نہ ملنے سے تین ہزار میگاواٹ سے زائدبجلی کی قلت ہوئی ،کوششیں جاری ہیں ،ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو کہا ہے کہ لوڈ شیڈنگ جتنے بھی گھنٹے کی ہو ایک گھنٹے کے وقفے سے کریں تاکہ عوام کو پریشانی کم سے کم ہو،دو سال کے اندر بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی جس سے بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہوگیا۔ ادھرلاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں گیس پریشربھی انتہائی کم ہونے کی شکایات ہیں،لاہور میں گنجان آباد اور ٹیل کے علاقوں میں گیس کے لو پریشر کی شکایات میں اضافہ ہوا۔ ملک میں ایل این جی کی سپلائی صفر،سوئی ناردرن گیس سسٹم میں یومیہ 900 سے 1100 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی شامل ہوتی ہے۔ذرائع کے مطابق ایل این جی سسٹم میں شامل ہونے پر ہی انڈسٹریل، کمرشل اور گھریلو ضروریات پوری ہوتی ہیں،ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے سے سوئی ناردرن سسٹم پر شدید دبائو ہے اس لئے انڈسٹری،کمرشل اور گھریلو صارفین کو گیس ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کا پلان ہے،گھریلو صارفین کو ناشتہ ،دوپہر اور رات کے کھانے کیلئے ہی گیس فراہم ہوگی تاہم انڈسٹری اور کمرشل صارفین کو بلاتعطل گیس فراہمی جاری رہے گی۔