بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ

لاہور(کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) گرمی کی شدت بڑھنے سے قبل ہی بجلی بحران شدت اختیار کر گیا، ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ سے شہری بے حال ہوگئے، بجلی بندش سے پانی کا بحران بھی پیدا ہونے لگا۔ذرائع کے مطابق ملک بھر کی تمام ڈسکوز میں بجلی کی صورتحال ابتر ہوگئی، بجلی کا شارٹ فال 4500 میگاواٹ تک جا پہنچا جس کے باعث لاہور سمیت پنجاب بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے۔شہروں میں روزانہ 6 سے 8 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے تک بجلی کی بندش سے شہری بلبلا اٹھے، دن بھر بجلی کی آنکھ مچولی سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا، جبکہ رات کے وقت میں گھنٹوں بندش سے شہری نیند سے بھی محروم ہوگئے۔لیسکو میں شارٹ فال 1 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہوگیا ہے، رات بھر لیسکو ریجن میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جس سے وزارت پاور ڈویڑن کا 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا دعویٰ بھی ہوا ہوگیا۔لاہور کے مختلف علاقوں میں ہر گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ بجلی بند ہو رہی، دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔لیسکو ذرائع کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں سولر کے باعث طلب میں کمی ہوتی ہے، شام ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے، لیسکو کو رات 1000 میگاواٹ بجلی کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا، رات کے اوقات میں لیسکو کی طلب 2900 میگاواٹ تک پہنچ گئی، شہری علاقوں میں بجلی کے کم وولٹیج کی بھی شکایات موصول ہوئیں۔اس کے علاوہ ملتان اور جھنگ بھی غیر اعلانیہ اور طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ سے شہری پریشان نظر آرہے ہیں۔ لاہور شہر کی مختلف مارکیٹوں، بازاروں اور تجارتی مراکز میں بدستور لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔تاجروں کے مطابق محدود اوقاتِ کار کے باوجود بجلی کی بندش نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر دیا ہے۔ ہال روڈ ،عابد الیکٹرونکس مارکیٹ ،فیروز پور روڈ مارکیٹس کی مارکیٹوں میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے۔تاجر رہنماؤں نے بتایا کہ ایک گھنٹہ بجلی آتی ہے اور ایک گھنٹہ چلی جاتی ہے، جس کی وجہ سے کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گرمی کے موسم میں بجلی کی غیر اعلانیہ بندش نہ صرف گاہکوں کی آمد کم کر رہی ہے بلکہ دکانوں میں کام کرنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔ تاجروں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو حل کیا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔