پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر مصدق ملک نے ایک پریس کانفرنس میں معاشی کارکردگی، مہنگائی میں کمی، اور حکومتی ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی ترقی کے واضح اہداف اپوزیشن کو نظر نہیں آتے، حالانکہ زمینی حقائق خود بول رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں مہنگائی کی شرح 40 فیصد سے کم ہو کر صرف 1 فیصد رہ گئی ہے، مگر اس کے باوجود حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "غریب ہمیں نظر نہیں آتے، ہر ماہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مسلسل کمی آ رہی ہے، مگر پھر بھی کچھ حلقے صرف تنقید برائے تنقید کر رہے ہیں۔"مصدق ملک نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سوچ عوامی مفاد سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، "وزیراعظم کے ذہن میں چار ایسے معاشی منصوبے (خاکے) ہیں جن سے زرعی ترقی کو فروغ ملے گا۔ ان کا واضح وژن ہے کہ مہنگائی میں کمی کے ساتھ ساتھ عوام کو روزگار اور ریلیف دیا جائے۔"انہوں نے چمن تا کراچی شاہراہ منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ ایک معاشی راہداری ہے جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ "آپ کو اگر یہ ترقیاتی کام برے لگتے ہیں تو ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ آپ چاہتے کیا ہیں۔"کچھی کنال منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہر کی تعمیر سے جہاں علاقے سیراب ہوئے، وہیں مقامی لوگوں کو روزگار بھی میسر آیا۔صدق ملک کا مؤقف تھا کہ حکومت صرف انفراسٹرکچر نہیں بنا رہی بلکہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ہر سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور عوام کو اس کا براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔