نہری منصوبہ قومی مفاد کے خلاف، پیپلز پارٹی حکومت سے علیحدگی پر تیار

نہری منصوبہ قومی مفاد کے خلاف، پیپلز پارٹی حکومت سے علیحدگی پر تیار

کراچی: سندھ کے صوبائی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما ناصر حسین شاہ نے وفاقی حکومت کو متنازع "نہروں کے منصوبے" کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو پی پی پی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لے گی۔

فرنیچر ایکسپو کے افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ "یہ منصوبہ پی پی پی کی سرخ لکیر ہے، اور اگر زبردستی اسے جاری رکھا گیا تو ہم وفاق کا حصہ نہیں رہیں گے۔"

اہم نکات:
نہروں کے منصوبے پر پی پی پی کا مؤقف:

ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ "انسداد دہشت گردی اور صوبائی خودمختاری پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔"ان کا کہنا تھا کہ "ارسا (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) نے پانی کے غلط اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ موجودہ جائزے کے مطابق، منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے ضروری پانی دستیاب ہی نہیں۔"انہوں نے وزیراعظم اور سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ "دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے منصوبہ منسوخ کیا جائے۔"
دہشت گردی اور فوج کی اہمیت:

صوبائی وزیر نے کہا کہ "ملک میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کا تعلق پاکستان دشمن قوتوں سے ہے۔"انہوں نے آرمی چیف کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ "دشمنوں کے آلہ کاروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔"لیبیا اور عراق کی مثال دیتے ہوئے خبردار کیا کہ "فوج کی کمزوری دشمنوں کو موقع فراہم کرتی ہے۔"
معاشی و سماجی ترقی کے اقدامات:

فرنیچر ایکسپو کو عوام کو نئے رجحانات سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔معدنیات کے شعبے میں ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "صوبوں کو معدنیات میں پورا حق دیا جائے گا۔"گیس کے ذخائر کے تنازعے پر کہا کہ "سندھ کو پیداوار کا منصفانہ حصہ دیا جائے، لیکن تمام صوبوں کی ضروریات پوری ہونی چاہییں۔"
زراعت اور فوڈ سیکیورٹی:

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سندھ کی زراعت کو فروغ دینے کی اہمیت بیان کی۔پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں جدید زرعی طریقوں پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔
سیاسی ردعمل:

نہروں کے معاملے کو "سیاست کا یتیم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "کبھی صدر کی منظوری کا بہانہ بنایا جاتا ہے، تو کبھی سیاسی مخالفین پی پی پی کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں۔"تمام سیاسی رہنماؤں کو محب وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کا مفاد سب سے مقدم ہے۔"
اختتامیہ:
ناصر حسین شاہ نے زور دے کر کہا کہ "عوام کا فیصلہ ہی حتمی فیصلہ ہے۔ ہمیں ملک کی سالمیت اور ترقی کو ہر چیز پر ترجیح دینی ہوگی۔" انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین قومی یکجہتی کو فروغ دیں گے اور تنازعات کو گفتگو سے حل کیا جائے گا۔