اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر جلد سماعت کی استدعا کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے منظور کرلیا۔
اس درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس انعام امین منہاس کی سربراہی میں ہوئی۔عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں اور سزا معطلی کی درخواستوں پر جلد سماعت کرنے کی استدعا منظور کرلی اور کہا کہ دونوں کی اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستیں 2 ہفتوں کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی۔مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل ظہیر عباس ایڈووکیٹ اور بشریٰ بی بی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل علی بخاری نے عدالت سے درخواست کی کہ سزا معطلی کی درخواستیں جلد سماعت کے لیے مقرر کی جائیں۔
جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ ڈویژن بینچ نے کیسز کے بارے میں جو جوڈیشل آرڈر جاری کیا ہے، اس کے مطابق ہم کسی تاریخ کا تعین نہیں کر سکتے لیکن ہم سزا کی اپیلوں کے ساتھ سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی غور کریں گے۔یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کو 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا دی گئی ہے۔ عمران خان کو 14 سال کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال کی سزا دی گئی ہے۔ دونوں نے اپنی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں اور سزا معطلی کی درخواستیں بھی کی ہیں۔یہ کیس سیاسی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ عمران خان پی ٹی آئی کے بانی ہیں اور ان کے خلاف جاری مقدمات ملکی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔