رندیپ ہوڈا نے اپنی زندگی کے اہم حصوں اور شادی کے فیصلے کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ابتدا میں شادی کے حق میں نہیں تھے، اور انہیں یہ فیصلہ کرنے میں بہت وقت لگا۔ انہوں نے اپنے اسکول کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسکول میں بہت دکھی رہتے تھے اور یہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی اور کو بھی اسی طرح کے تجربات کا سامنا ہو، خصوصاً جب بات اولاد کی ہو۔رندیپ نے اپنی شادی کی وجہ بھی واضح کی، خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ انہوں نے اپنی دلہن کو منتخب کیا، لیکن ان کی قوم جاٹ کے باہر ہونے کی وجہ سے اس پر خاندان میں اعتراض تھا۔ بھارت میں جاٹ کمیونٹی میں عام طور پر برادری کے اندر شادیوں کا رواج ہے، اور رندیپ کے والدین اس بات کو تسلیم کرنے میں وقت لگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وبا کے دوران انہیں شادی کا موقع ملا اور اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنی اہلیہ لنلائے شرم سے شادی کی۔ لنلائے شرم ریاست منی پور کے قدیم قبیلے میتالی سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ ایک مشہور اداکارہ اور ماڈل بھی ہیں۔رندیپ ہوڈا کی یہ کہانی ان کی ذاتی زندگی اور ثقافتی رواجوں کے درمیان پائی جانے والی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے، اور ان کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنے فیصلوں میں مستقل مزاجی اور محبت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوتی ہے۔