وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی وزیر برائے فیتھ اینڈ کمیونیٹیز لارڈ واجد خان کی ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی مفاد کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔
اس ملاقات میں انسداد دہشتگردی، سکیورٹی اور کراس بارڈر جرائم کی روک تھام کے علاوہ دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ ہر ممکن شعبے میں مزید تعاون کی خواہش رکھتا ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں برطانیہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے عالمی سطح پر ایک مثال قائم کی ہے اور پوری دنیا میں پاکستان ہی وہ ملک ہے جس کے تمام طبقوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔برطانوی وزیر لارڈ واجد خان نے جعفر ایکسپریس پر حالیہ دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو سراہا۔
ملاقات کے دوران افغان مہاجرین کی برطانیہ منتقلی کے حوالے سے بھی بات ہوئی، جس پر لارڈ واجد خان نے وزارت داخلہ کا شکریہ ادا کیا۔ محسن نقوی نے اس بات کو واضح کیا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا عمل جاری ہے، جس میں انہیں عزت کے ساتھ ان کے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے، اور قانونی دستاویزات رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔اس موقع پر وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے عمل میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ملاقات میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے، اور اس موقع پر دونوں ممالک کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔