ایران،پاکستان سے ڈیڑھ سال میں 24لاکھ سے زائد مہاجرین افغانستان واپس پہنچے

13اپریل تک60ہزار افراد طورخم اور اسپن بولدک سرحدی مقامات کے ذریعے افغانستان میں داخل ہوئے، آئی او ایم
 نیویارک(آئی این پی )انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے کہا ہے کہ ستمبر 2023میں افغان واپسی کی تحریکوں میں ڈرامائی اضافے کے بعد سے اب تک پاکستان اور ایران سے واپس آنے والے 10لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی مدد کی گئی ہے۔ عالمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق 2025کے دوران ایک اندازے کے مطابق 16لاکھ غیر قانونی افغان تارکین وطن اور افغان سٹیزن کارڈہولڈرز متاثر ہوسکتے ہیں،ستمبر 2023سے اب تک 24لاکھ 30ہزار سے زائد غیر قانونی افغان مہاجرین پاکستان اور ایران سے واپس آ چکے ہیں۔ ان میں سے 54فیصد کو جبری طور پر واپس بھیجا گیا، تنظیم نے واپس آنے والے 10لاکھ 3ہزار 563افراد کو آمد کے بعد انسانی امداد فراہم کی ہے۔ دریں اثنا آئی او ایم اور اس کے شراکت داروں نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانوں کی جبری واپسی کو فوری طور پر روکیں، جب تک کہ کسی شخص کی قانونی حیثیت سے قطع نظر محفوظ، باوقار اور رضاکارانہ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے حالات پیدا نہیں ہو جاتے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم سے 13اپریل کے درمیان آئی او ایم نے جبری واپسی میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا، اور تقریباً 60ہزار افراد طورخم اور اسپن بولدک سرحدی مقامات کے ذریعے افغانستان میں داخل ہوئے۔