اسلام آباد ہائیکورٹ کا 4لاپتا افغان بھائیوں کو 2ہفتوں میں بازیاب کرانے کا حکم

 لاپتا بھائیوں کی والدہ کہہ رہی ہیں اگست سے ہائیکورٹ آرہی ہوں، اگر بیٹے مرگئے ہیں توبتا دیں،جسٹس محمد آصف 
اسلام آباد (آئی این پی )اسلام آباد ہائیکورٹ نے 4لاپتا افغان بھائیوں کو 2ہفتوں میں بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے جنوری 2024سے وفاقی دارالحکومت آباد سے لاپتا 4افغان بھائیوں کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کی جس دوران ڈی آئی جی لاہور، اسلام آباد اور آر پی او راولپنڈی عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران عدالت نے لاپتا بیٹوں کی افغان والدہ گل سیماکوروسٹرم پر بلاکرپشتو میں بات کی اور پھر ترجمہ کرکے سب کو بتایا۔ جسٹس محمد آصف نے ریمارکس میں کہا کہ لاپتا بھائیوں کی والدہ کہہ رہی ہیں اگست سے ہائیکورٹ آرہی ہوں، اگر بیٹے مرگئے ہیں توبتا دیں۔دوران سماعت ڈی آئی جی اسلام آباد نے افغان خاتون کے بیٹوں کی بازیابی کے لیے عدالت سے مزید مہلت مانگ لی جس پر درخواست گزار نے کہا کہ 8ماہ سے توکیس ہائیکورٹ میں چل رہاہے، رپورٹس آرہی ہیں کہ بندہ نہیں ملا ہے۔عدالت نے سوال کیا آئی جی صاحب کو بلایا تھا وہ نہیں آئے ؟، سرکاری وکیل نے جواب دیا کیس کا وقت 11بجے تھا، اس لیے آئی جی ابھی نہیں آئے، ڈی آئی جی، آرپی او ودیگرافسران موجودہیں، دوبارہ رپورٹ جمع کروانے کے لیے وقت دے دیں۔جسٹس محمد آصف نے کہا آپ کو کتنا ٹائم چاہیے ؟ وقت دینے کا کوئی فائدہ نہیں، ہمیں بندے چاہئیں، 2 ہفتوں کا وقت دے رہے ہیں ہمیں نتائج سے آگاہ کریں۔بعد ازاں عدالت نے اسلام آباد اور پنجاب پولیس کو بازیابی کیلئے 2ہفتوں کا وقت دے دیا۔