سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نکم ٹیکس ترمیمی بل موخر ‘ پاکستان کرپٹو کونسل سے متعلق بریفنگ بھی وزیر خزانہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مؤخر
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سیکریٹری خزانہ نے کہا ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے سے پی ڈی ایل کی مد میں 17 ارب روپے کے لگ بھگ مجموعی اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے گفتگو کی۔اجلاس میں انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 موخر کر دیا گیا جبکہ پاکستان کرپٹو کونسل سے متعلق بریفنگ بھی وزیر خزانہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مؤخر کی گئی۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 کا جائزہ لیا گیا۔ ایف بی آر نے سینیٹر ذیشان خانزادہ کی طرف سے پیش کردہ بل پر اعتراضات کیے۔سینیٹر انوشہ رحمٰن نے کہا کہ اگر کچھ بہتری کے لیے لایا جا رہا ہے تو ایف بی آر کو روکنے کے بجائے بل کو سراہنا چاہیے، ایسا لگ رہا ہے کہ ایف بی آر یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم ہو رہی ہے، اس پر لاء ڈویڑن سے رائے لینی چاہیے لاء کو راستہ بنانا چاہیے۔سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگلے چند ہفتوں میں بجٹ آنے والا ہے اس بل کو بجٹ میں لے آئیں۔سینیٹر انوشہ رحمٰن نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ ہیں مگر سیکریٹری ریونیو ڈویڑن نہیں ہیں، اگر سیکریٹری خزانہ یقین دہانی کروا دیتے تو کیا سیکریٹری ریونیو اس کو مانیں گے۔سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ حکومت کا انکم ٹیکس ٹربیونل پر بہت فوکس ہے کہ ان کی کارکردگی بڑھائی جائے،دریں اثناء حکومت نے ریلیف دینے کی بجائے پٹرولیم لیوی بڑھا دی۔حکومت نے پٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 8 روپے 2 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا، پٹرول پر لیوی کی شرح 78 روپے 2 پیسے فی لٹر کر دی گئی ہے۔اسی طرح ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں 7 روپے ایک پیسہ اضافہ کر دیا گیا، ڈیزل پر پٹرولیم لیوی 77 روپے ایک پیسہ فی لٹر کر دی گئی۔