کچہری خود کش حملہ، متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی، کمیٹی کی میٹنگ بلانے کی ہدایت

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے کچہری خود کش حملے کے متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کے کیس میں وزارت داخلہ کو متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کے لیے قائم کمیٹی کی میٹنگ بلانے کی ہدایت کی ہے ۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ ہمیں بتائیں بلوچستان کا جو پیکیج ہے وہ دلوا دیتے ہیں، وہاں روز مرتے ہیں اور پیکیج دیتے ہیں۔انھوں نے یہ ریمارکس منگل کو محمد آصف گجر کی درخواست پر سماعت کے دوران دیئے۔ درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر تصدق حنیف اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالتی حکم پر جوائنٹ سیکرٹری آئی سی ٹی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے معاوضہ کا اعلان کیا تھا اس کا کیا بنا۔ جس پر جوائنٹ سیکرٹری آئی سی ٹی نے بتایا کہ ترلائی امام بارگاہ کے متاثرین کو معاوضہ دیا جا چکا ہے۔ کچہری واقعہ پر بھی کمیٹی بنی ہوئی ہے اور دو میٹنگز ہو چکی ہیں۔ وزارت داخلہ اور آئی سی ٹی کے پاس فنڈز نہیں ہوتے، کمیٹی سمری وزیر اعظم کو بھیجتی ہے جس کے بعد کابینہ سے منظوری لینا ہوتی ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ آپ نے کمیٹی کا نہیں بتایا، ہمیں بتائیں بلوچستان کا جو پیکج ہے وہ دلوا دیتے ہیں، وہاں روز مرتے ہیں اور پیکج دیتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کس کی سربراہی میں کمیٹی بنی ہے۔ جوائنٹ سیکرٹری نے بتایا کہ وزیر داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی ہے جو وزیر اعظم کو بھیجے گی اور وہ منظور کریں گے۔درخواست گزار وکیل نے کہا کہ مظہر اقبال کے علاوہ ایک اور زخمی ہیں جو زیادہ متاثر ہوئے تھے، میڈیکل بل بھی سب لگے ہوئے ہیں لیکن لسٹ میں نام نہیں ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ میٹنگ کا شیڈول طے کر کے بتائیں، ابھی ہم آرڈر جاری نہیں کر رہے۔ جلد میٹنگ رکھیں کون سی بڑی پالیسی بننی ہے، دو صفحات کی پالیسی ہوگی۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں روز یہی کام ہو رہا ہے۔ دفتر جا کر ہمیں میٹنگ کی تاریخ بتا دیں اس کے بعد ہم سماعت رکھیں گے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کو متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کے لیے قائم کمیٹی کی میٹنگ بلانے کا حکم دیتے ہوئے جوائنٹ سیکرٹری آئی سی ٹی کو ہدایت کی ہے  اور سماعت ملتوی کر دی