احتساب کے بندھے ہوئے ہاتھ

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
یہاں بحث اپنے سب سے فلسفیانہ مقام پرپہنچتی ہے۔بدعنوانی کے ہرمقدمے میں پہلاسوال یہ ہوتا ے کہ جرم کس نے کیا؛مگر ایک منظم ریاست میں اس سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ جرم کی تحقیق کون کرے گا؟وہ ادارہ کس قانون کے تحت کام کرے گا؟اس کے سربراہ کی تقرری کیسے ہوگی؟اس کے تفتیش کارکس سے جواب دہ ہوں گے؟کیاان کابجٹ محفوظ ہے؟کیاوہ سیاسی انتقام اورسیاسی مصلحت سے بھی محفوظ ہیں ؟یہ سوال پاکستان کی پوری احتسابی تاریخ کے قلب میں موجودرہاہے۔احتساب اگرطاقتورحکومت کے ہاتھ میں سیاسی تلواربن جائے توانصاف مجروح ہوتاہے،اوراگراسے اس قدرمحدودکردیاجائے کہ طاقتورطبقے اس سے بے خوف ہوجائیں توبھی انصاف مجروح ہوتاہے۔درست راستہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے،ایساآزاد۔شفاف اورقانون کے تابع احتساب جونہ انتقام ہونہ رعایت۔
اگریہ بات قانونی متن سے ثابت ہوتی ہے کہ احتسابی دائر اختیارکی مالی حدکسی اشاریے کے ساتھ بڑھ سکتی ہے تو پارلیمان کواس کے عملی اثرات کاباقاعدہ جائزہ لیناچاہیے۔قانون صرف اس دن زندہ نہیں ہوتاجب اسے منظورکیاجاتاہے؛وہ ہرروزاپنے نتائج کے ذریعے دوبارہ لکھاجاتاہے۔ممکن ہے کسی قانون کی تشکیل کے وقت ایک مخصوص مالی حدکومعقول سمجھاگیاہو، لیکن وقت،مہنگائی،ادارہ جاتی صلاحیت اورجرائم کی نوعیت بدلنے سے وہی حدایسے نتائج پیداکرسکتی ہے جن کاابتدائی طورپراندازہ نہ کیاگیا ہو۔
اسی لیے جمہوری قانون سازی میں پارلیمانی نگرانی اوربعد ازنفاذ جائزہ نہایت اہم ہیں۔پارلیمان کوپوچھناچاہیے کہ اس حدکے نتیجے میں کتنے مقدمات نیب کے دائر اختیارمیں رہے،کتنے باہرگئے،وہ کہاں منتقل ہوئے،ان کاانجام کیاہوا،اورکیامتبادل اداروں نے ان پرمؤثر کارروائی کی؟اعداد یہاں سیاست سے زیادہ سچ بول سکتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں قانونی بحث عوامی احساس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ایک عام شہری کیلئے مہنگائی کوئی معاشی اصطلاح نہیں؛یہ اس کے باورچی خانے، بچوں کی فیس،بجلی کے بل اوردواکی قیمت کانام ہے۔اگراسی معاشی اشاریے سے احتساب کی کوئی مالی حدبھی بڑھتی دکھائی دے توعوام کے ذہن میں ایک تلخ تضادپیداہوناناگزیرہے۔مگرتحقیق کاتقاضاہے کہ جذباتی نتیجے پرپہنچنے سے پہلے چارچیزیں دیکھی جائیں۔ قانون کی اصل عبارت،متعلقہ ترمیم،پارلیمانی کارروائی اورسرکاری تشریح۔اسی طرح یہ سوال کہ ممکنہ فائدہ کس کوپہنچ سکتاہے،کسی فردیا جماعت پرپیشگی الزام لگانے سے حل نہیں ہوگا۔اس کیلئے مقدمات،اعدادوشمار،قانونی اثرات اوراداروں کے ریکارڈکاغیرجانبدارتجزیہ ضروری ہے۔قانون کے بارے میں شبہ کا علاج شورنہیں، شفافیت ہے۔
ریاستی ادارے اپنے سربراہوں سے بڑے ہوتے ہیں،لیکن بعض اوقات سربراہ کے الفاظ پورے ادارے کی داخلی کیفیت کاآئینہ بن جاتے ہیں۔اگرایک قومی احتسابی ادارے کاسربراہ واقعی یہ سمجھتاہے کہ موجودہ قانونی بندوبست اس کی بنیادی ذمہ داری اداکرنے میں رکاوٹ ہے،تواس شکایت کاجواب شخصی سطح پرنہیں دیاجاسکتا۔پارلیمان کویہ دیکھناہوگا کہ کیایہ مسئلہ واقعی قانونی اختیارکاہے،تفتیشی وسائل کاہے،دائر اختیارکی تقسیم کاہے،یااداروں کے درمیان رابطے کی کمزوری کا۔جمہوری ریاست میں ادارے کی فریادکاجواب مزید طاقت دینالازمانہیں ہوتا؛بعض اوقات بہترقانون،واضح حدوداورمضبوط نگرانی زیادہ ضروری ہوتی ہے۔اختیاربے لگام ہوتوظلم کااحتمال پیداہوتاہے،اوراختیارحد سے زیادہ محدودہوتوبے اثری کا۔ریاست کاکمال قوت اورقاعدے کے درمیان اسی میزان کوقائم رکھنے میں ہے۔یہ سوال سیاسی جذبات سے زیادہ پارلیمانی تاریخ کاسوال ہے۔
کسی متنازع قانونی شق کے بارے میں ذمہ دارانہ تحقیق کیلئے یہ دیکھاجاناچاہیے کہ ابتدائی مسودہ کس نے تیارکیا،متعلقہ وزارت کی سمری کیاتھی،قائمہ کمیٹیوں میں کیابحث ہوئی، ترامیم کس مرحلے پرشامل ہوئیں،قومی اسمبلی اورسینیٹ میں کیا دلائل دیے گئے،اورحتمی متن کس صورت میں منظورہوا۔پارلیمانی جمہوریت کی خوبی یہی ہے کہ قانون سازی کے قدم کاغذپراپنے نشانات چھوڑتے ہیں۔اگرقوم جانناچاہتی ہے کہ ایک مخصوص شق کہاں سے آئی توجواب قیاس یاسیاسی الزام میں نہیں بلکہ قانونی وپارلیمانی ریکارڈمیں تلاش کیا جاناچاہیے۔اسی طر ح فائدہ کس کوہوا،کاسوال بھی اشخاص کے ناموں سے پہلے نتائج کے تجزیے کاتقاضاکرتا ہے۔قانون کونیت کے میزان سے نہیں،اس کے عمومی اورعملی اثرات کے میزان سے بھی پرکھناچاہیے۔
پاکستان میں احتساب کاسب سے بڑاالمیہ شاید یہ رہاہے کہ اسے بارہاسیاسی عینک سے دیکھاگیا۔ایک حکومت جس کارروائی کوانصاف قراردیتی ہے،اپوزیشن اسے انتقام کہتی ہے؛ پھراقتداربدلتاہے توالفاظ کے کرداربھی بدل جاتے ہیں۔حالانکہ قانون کی عظمت اسی دن قائم ہوتی ہے جب وہ حکومت اورحزبِ اختلاف دونوں کیلئے یکساں ہو۔نیب ہو،ایف آئی اے ہو،صوبائی احتسابی ادارے ہوں یاکوئی دوسراتفتیشی ڈھانچہ،ان سب کے سامنے ایک ہی آئینی واخلاقی اصول ہونا چاہیے،جرم کی نوعیت دیکھی جائے،مجرم کاسیاسی مرتبہ نہیں۔بڑی برآمدگیوں کی سرخیاں ادارے کی کامیابی کا مکمل پیمانہ نہیں۔اصل امتحان یہ ہے کہ مقدمہ کس معیارپرشروع ہوا،تحقیق کتنی غیرجانبدارتھی،ملزم کوقانونی تحفظ کتناملا، فیصلہ شواہدپرہوایانہیں،اورکیایہی اصول کمزوراورطاقتوردونوں پرنافذ کیے گئے۔یہی حقیقی احتساب ہے؛باقی سب شورِبازار ہے۔
آخرکارتمام بحث ایک ہی سوال پرآکرٹھہرجاتی ہے۔اگربدعنوانی موجودہو،اگرعوام انصاف چاہیں،اگرپارلیمان قوانین بنائے، اگرادارے قائم ہوں،لیکن ذمہ دارادارے اپنے آپ کوبے اختیارمحسوس کریں،تونظام کس سمت جائے گا؟اس سوال کاجواب کسی ایک ادارے کوغیر محدودطاقت دینے میں نہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ بے مہاراحتساب بھی ظلم کا دروازہ کھول سکتاہے۔ جواب یہ ہے کہ پاکستان کوایسا ادارہ جاتی نظام درکارہے جس میں دائر اختیارواضح ہو،مقدمات کے درمیان خلانہ ہو،تمام متعلقہ ادارے پیشہ ورانہ استعداد رکھتے ہوں،سیاسی مداخلت کے دروازے بند ہوں،عدالتی نگرانی مؤثرہواورپارلیمان مسلسل جائزہ لیتی رہے۔
ریاستیں صرف مجرم پکڑنے سے مضبوط نہیں ہوتیں؛وہ اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب قانون ایساہوکہ نہ کوئی بے گناہ اس سے خوف کھائے اورنہ کوئی طاقتوراس سے بے خوف رہے ۔آج پاکستان کے سامنے اصل سوال شایدیہی ہے کہ احتساب کو سیاسی ضرورت،انتظامی سہولت اوروقتی مفادکے دائرے سے نکال کرایک مستقل قومی اصول کیسے بنایا جائے  کیونکہ جب قانون کاترازو ایک ہاتھ میں طاقت اوردوسرے میں مصلحت اٹھانے لگے توانصاف کی آنکھوں پربندھی پٹی غیرجانب داری کی علامت نہیں رہتی،بے خبری کی علامت بن جاتی ہے۔اوراگرواقعی محتسب کے ہاتھ بندھے ہوں توقوم کوصرف یہ نہیں پوچھناچاہیے کہ احتساب کرے گاکون؟اسے یہ بھی پوچھنا چاہیے وہ قانون کون ساہوگاجومحتسب کے ہاتھ بھی کھولے،مگرانہیں قانون کی حدسے باہرجانے نہ دے؛ جوطاقتورکوجواب دہ بنائے،مگراحتساب کوانتقام نہ بننے دے؛اورجوریاست کوایساآئینہ عطاکرے جس میں اقتدار خواہ کسی کا ہو،قانون کاچہرہ ہمیشہ ایک ہی دکھائی دے۔اسی میں آئین کی آبرو،پارلیمان کاوقار،اداروں کی ساکھ اورعوام کے اعتمادکی بقا پوشیدہ ہے۔