ویب ڈیسک: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دوحہ میں ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی، جس میں اہم علاقائی اور دوطرفہ امور زیر غور آئے۔
اجلاس اسرائیل کے حالیہ قطر پر حملے کے بعد طلب کیا گیا تھا، اور اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے 9 ستمبر کو قطر پر اسرائیلی جارحیت کی شدید ترین مذمت کی اور اس نازک صورتحال میں قطر کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں امت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا اور دوحہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس کو مسلم دنیا کی طرف سے مضبوط پیغام قرار دیا کہ اسرائیل کی جارحیت مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے اپنی دلی عقیدت اور نیک خواہشات پہنچائیں۔
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کو سراہا اور وزیراعظم کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے اور پاکستان–ایران تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ دونوں رہنماؤں نے تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر رابطے میں رہنے اور قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ملاقات میں خطے میں امن و استحکام، اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مشترکہ موقف، اور مسلم امہ کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ، دوطرفہ تجارتی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے، جس سے پاکستان–ایران تعلقات کے مستقبل میں مزید ترقی کے امکانات روشن ہوئے۔