عمران نے کہا انکا ملٹری ٹرائل چل رہا، پشاور میں فوری جلسہ کریں سب کو بلائیں
زبردستی آگے جاسکتے ہیں، میں جیل تو نہیں توڑ سکتا:گنڈا پور ، میڈیا سے گفتگو
راولپنڈی ( خصوصی رپورٹ ) بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن کے لئے حکومت افغانستان اور مقامی قبائل کو ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی وفد کے ہمراہ افغانستان جائیں۔ یہ لوگ عمران خان کوایک اور مقدمے میں سزا سنانے جا رہے ہیں۔مین سٹریم میڈیا سے بات نہیں کروں گی، کیونکہ کیمروں کے سامنے تین چار پلانٹڈ لوگوں کو بدتمیزی کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتی پھر ان کو بدتمیزی کا موقع ملے،علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد داہگل ناکے پر علی امین گنڈا پور کے ہمراہ میڈیا گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی نے کہا ہے جھوٹے گواہ کی سزا سات سال قید ہے، جھوٹے گواہ پیش کرکے وقت ضائع کیا جارہا ہے۔کمرہ عدالت میں میڈیا کے جو تین چار لوگ آتے ہیں انہیں بولنے کی اجازت ہی نہیں۔بچوں سے بات نہیں کرائی جاتی۔عمران نے کہا انکا ملٹری ٹرائل چل رہا ہے۔کے پی کے کے سارے ایم این ایز اور ایم پی ایز علی امین گنڈا پور کے ساتھ بیٹھیں۔ایک شخص نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے پی ٹی آئی کو کرش کیا ہے۔ تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز انکی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں۔بانی نے کہا ہے پشاور میں فوری جلسہ کریں سب کو بلائیں۔ عمران سے ملاقات سے پہلے گفتگو کرتے ہوئے گنڈاپور نے کہا میں خودکشی نہیں کروں گا بلکہ لڑ کر مروں گا، جو مارے گا اسے ماروں گا۔ سب سے زیادہ تنقید مجھ پر کی جا رہی ہے، ہمارے کچھ ٹاؤٹ کہتے ہیں علی امین ملا ہوا ہے۔ یہاں فورس کم ہے ہم زبردستی بھی آگے جاسکتے ہیں، میں جیل تو نہیں توڑ سکتا اگر ایسا ردعمل دوں تو کیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروا دیں گئے۔ گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہمارے احتجاج کے باعث قاضی فائز عیسیٰ کو ایکسٹینشن نہیں ملی۔وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 4 اکتوبر کے احتجاج کے نتیجے میں یہ ٹارگٹ حاصل کیا۔انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے یہ ٹارگٹ دیا تھا اور کہا تھا سب کو آنا ہے، 4 اکتوبر کو پشاور سے نکلا، 5 اکتوبر کو ٹارگٹ حاصل کر کے واپس لوٹا تھا۔