یوٹا: چارلی کرک کے قتل کا ملزم تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہا، گورنر اسپینسر کاکس

یوٹا: چارلی کرک کے قتل کا ملزم تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہا، گورنر اسپینسر کاکس

یوٹا کے گورنر اسپینسر کاکس نے کہا ہے کہ امریکی قدامت پسند رہنما چارلی کرک کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم ٹائلر رابنسن تفتیشی حکام سے تعاون نہیں کر رہا۔

 تاہم اس کے اہل خانہ اور قریبی دوستوں سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ قتل کی اصل وجہ اور محرکات سامنے لائے جا سکیں۔گورنر کے مطابق 22 سالہ رابنسن پر منگل کو باضابطہ فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ رابنسن اس وقت یوٹا میں زیرِ حراست ہے اور اب تک اس نے جرم کا اعتراف نہیں کیا۔واقعہ اس وقت پیش آیا جب رابنسن نے یوٹا ویلی یونیورسٹی کی چھت پر چڑھ کر ایک آؤٹ ڈور تقریب کے دوران فائرنگ کی۔ گولی چارلی کرک کی گردن میں لگی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس تقریب میں تقریباً 3 ہزار افراد شریک تھے۔

چارلی کرک، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور قدامت پسند طلبہ تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے شریک بانی تھے۔ اس واقعے کے بعد امریکا میں سیاسی تشدد کے بڑھتے خدشات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔گورنر کاکس کے مطابق ایف بی آئی نے بتایا ہے کہ رابنسن کا روم میٹ، جو اس کا رومانوی ساتھی بھی ہے اور جنس کی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، تفتیش میں بھرپور تعاون کر رہا ہے۔