لاہور ہائیکورٹ میں سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق بھی شامل تھے۔سماعت کے دوران جمشید دستی اپنے وکیل اشتیاق اے خان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے کون پیش ہوا ہے؟ اس پر اسپیکر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں نوٹس گزشتہ روز ہی ملا ہے، لہٰذا جواب اور وکالت نامہ جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس نظام کو معمولی نہ سمجھا جائے، انتخابی عمل عوام کا بنیادی حق ہے اور عدالت نے اسی بنیاد پر اس کو روکا ہے تاکہ نمائندوں کے انتخاب کا حق متاثر نہ ہو۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اٹارنی جنرل کا تحریری جواب آج جمع کرا دیا گیا ہے۔ تاہم جمشید دستی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اس جواب کی کاپی عدالت میں ہی ملی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے وکیل عمران عارف رانجھا نے بھی اپنا جواب جمع کرا دیا۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔