امن کے پسِ پردہ امریکہ کی حقیقت

آکاش علی فرتاش

25 اپریل 1945ء￿  سے 26 جون 1945ء￿  تک سان فرانسکو ، امریکہ میں پچاس ممالک کے نمائندوں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا چنانچہ اقوام متحدہ کا منشور مرتب کیا گیا لیکن اقوام متحدہ 24 اکتوبر 1945ء￿  کو وجود میں آئی۔اقوام متحدہ کی بنیاد دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے  امن و سلامتی کو قائم رکھنے اور مستقبل میں جنگوں کو روکنے کے لئے رکھی گئی تھی جس کا  ایک مقصد بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا بھی تھا لیکن شنید یہ ہے کہ اس کا قیام ایسی عالمی تنظیم کی ضرورت کے پیش نظر کیا گیا جو جنگوں کی بجائے پرامن طریقہ سے مختلف ممالک کے درمیان مسائل حل کر سکے۔
امریکہ جو امن کے نام پہ خود  کو ایک معصوم اور امن پسند ملک کہلانے میں کوشاں رہتا ہے ، یہ اس کا اصلی چہرہ نہیں ایک طرف امریکہ امن کے نام پہ خود کو ایک لہراتے ہوئے فلیگ کی طرح دکھائی تو دینا چاہتا ہے لیکن اس کی اصلیت یہ ہے کہ وہ صرف امن کا نام استعمال کرتے ہوئے اس مداری کا کردار ادا کر رہا ہے جس پہ اسے کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں ہوتی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی سال  2024 میں امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کی جانب سے براہ راست دیگر  ممالک کو فروخت کئیجانے والے جنگی و دفاعی سازوسامان کی مالیت 200.8 ارب ڈالر رہی جو مالی سال 2023  کے 170.6 ارب ڈالر کے  مقابلے میں 23.5 فیصد رہی۔ آب امریکی اسلحے کی برآمدات 318 ارب ڈالر مالیت کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف اقوام متحدہ امن کی بنیاد رکھ کر اس کے پسِ پردہ جو ہتھیاروں کے کاروبار میں سرِ فہرست اپنا کردار ادا کر رہا ہے،   اس میں اقوام متحدہ کا منشور غائب کیوں؟ دیکھا جائے تو یہ دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ایک دھوکہ ہے اگر اقوام متحدہ حقیقی طور پہ امن کا پیروکار ہے یا ہوتا تو کیا جنگوں کے ساز و سامان کو فروغ دیتا ؟ نہیں بلکہ انسانی فلاح و بہبود پہ اپنی سوچ و فکر کو مرکوز رکھتا، درحقیقت امریکہ عالمی سطح پہ خود کو ایک عالمی امن کا نشان ظاہر کرنا چاہتا ہے جو کہ صرف ایک اس کا ادھورا خواب ہی رہے گا۔
آپ غور کریں کہ امریکہ عالمی امن کو کس حد تک خطرہ میں مبتلا کرنے میں اپنا عملی کردار ادا کر رہا ہے ، امریکہ ہی وہ ہاتھی پے جس کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔
دنیا کو اگر حقیقی طور پہ امن کی طرف لانا ہے تو امریکہ کو اپنے جنگی ہتھیاروں کے بیوپار کو بند کرنا ہو گا ، سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ اگر کسی انسان کے پاس ہتھیار نہیں تو وہ کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔ 
عالمی امن کے نام پہ جو کچھ ماضی میں ہوتا رہا ہے اور اب تک ہوتا آ رہا ہے تاریخ اس کی گواہ ہے کہ دنیا میں سانس لینے والوں کو  کس کس طرح کے  مسائل کا سامنا رہا ہے اور کیا کیا تجربات محض امن کے نام پہ ہوتے رہے ہیں۔

انسانیت کی مکمل تشریح کو کسی نے بھی آج تک اس طرح بیان نہیں کیا جس طرح وہ حقیقی مناظر ، منظرِ عام ہوتے رہے ہیں۔ 
انسانیت یہ نہیں کہ ایک طرف آپ ہتھیاروں کا ذخیرہ بنا کر دنیا بھر کو بیچیں اور دوسری طرف آپ عالمی امن کو صرف لہراتے ہوئے  الفاظ کی بنا پر بیان بازی کے طور پہ استعمال کرتے  رہیں۔1945 کے بعد جس قدر تیزی کے ساتھ  اس کائنات میں سرمایہ کاری جنگی ساز و سامان کے لئے کی جاتی رہی اور کی جارہی ہے یہ کسی طرح بھی قابل اعزاز نہیں ، نہ ہی انسانیت کے دفاع کے لئے کوئی عملی طور پہ مرتب کیا جانے والا بہترین عمل  ہے۔ یہ صرف آنے والے وقت میں ، مستقبل کو بدترین مناظر دکھانے کے قابل ہے۔ 
میرا خواب ہے کہ بنی نوع انسان حقیقی طور پہ بالغ ہو جائیں تاکہ دنیا میں امن اور انسانیت کی بقاء￿  سلامت رہے۔ ہم نے ہر دہانی میں دنیا بھر میں دیکھا ہے ایسی بیماریاں جن کا فی الحال کوئی علاج نہیں اور وہ بیماریاں ہیں ذاتی لالچ، تشدد، اور عالمی جنگیں' 
لیکن جنگوں کے لئے دنیا بھر میں ہتھیاروں کو فروغ دینا 111 ولڈ وار کی علامت کو ظاہر کرتا ہے۔