سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
افغان طالبان اورتحریکِ طالبان پاکستان الگ تنظیمیں ہیں،لیکن ان کے تاریخی روابط کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔پاکستانی توقع کامسئلہ یہ تھا کہ ماضی کاتعاون مستقبل کے رویے کی ضمانت سمجھ لیاگیا۔بظاہراقتدارمیں آنے والاگروہ اپنے نظریاتی رشتوں،داخلی اتحاداوربقاکے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرتاہے لیکن درپردہ معاملہ کچھ اورہے۔اقوامِ متحدہ کے متعلقہ تحقیقی ادارے کی رپورٹ بھی طالبان کے اقتدارکے بعد ٹی ٹی پی جیسے علاقائی گروہوں کیلئیسازگارحالات پیدا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔اس سے پاکستانی خدشے کومحض بدگمانی قراردینامشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔اس سلسلے میں پاکستان نے اپنے مقف کوٹھوس بنیادوں پراقوام عالم کے سامنے پیش بھی کیاہے کہ کس طرح افغان طالبان نے ٹی ٹی پی
کواپنے مفادات کیلئے پناہ دے رکھی ہے اوران گروہوں کوکہاں کہاں سے مددمل رہی ہے جس میں بھارت کاناپاک چہرہ سب سے نمایاں ہے۔
یہاں سبق تعلقات کی نفی نہیں،توقعات کی اصلاح ہے۔ریاستی سلامتی کوتاریخی احسان،مذہبی قربت یاشخصی شناسائی کے سپردنہیں کیاجا سکتا۔دوستی کی قدراپنی جگہ،لیکن اس کی سیاسی معنویت تب ہے جب سرحدپارتشددکم ہواوردوحہ معاہدہ کی ذمہ داریاں پوری ہوں۔نیک گمانی مفیداخلاقی وصف ہے؛تنہاسلامتی حکمتِ عملی نہیں۔جب تک افغان طالبان اپنے قول وفعل کے تضادکوختم نہیں کرتے،اس وقت تک خطے میں دہشتگردی کاذمہ دارافغان طالبان اوراس کے اتحادی یعنی بھارت اوراسرائیل کانام واضح رہے گا۔
29فروری2020کادوحہ معاہدہ امریکااورطالبان کے درمیان ہواتھا۔پاکستان اس کاسہولت کارتھا،مرکزی دستخط کنندہ نہیں۔اس فرق کو محفوظ رکھناضروری ہے،ورنہ دوسرے فریقوں کے فیصلوں کی تمام ذمہ داری بھی پاکستان کے کھاتے میں ڈال دی جائے گی۔پھربھی پالیسی کاتنقیدی سوال بجاہے:کیاپاکستان نے اپنے مخصوص سلامتی خدشات کیلئے الگ،قابلِ تصدیق انتظام پرکافی زوردیا؟امریکی انخلااور پاکستان میں دہشتگردی کاخاتمہ ایک ہی مقصد نہیں تھے۔عمومی یقین دہانی کے ساتھ نگرانی،کارروائی کی مدت اورخلاف ورزی کے نتائج بھی ضروری تھے۔
افغان طالبان اورامریکاکے درمیان دوحہ مصالحتی معاہدے کیلئے پاکستان کو165مرتبہ دوحہ کاسفراختیارکرناپڑااوراس وقت افغانستان کی جیلوں میں ڈھائی ہزارسے زائد دہشتگرد موجودتھے جوافغان طالبان نے حکومت سنبھالتے ہی جیلوں سے رہاکرکے اپنے ہاں پناہ دے دی تاکہ بوقت ضرورت ان سے کام لیاجاسکے اورآج وہ ان سے پاکستان میں دہشتگردی کابازارگرم کرنے کیلئے کام لے رہاہے۔پاکستان سے اس وقت ایک شدید غلطی یہ ہوئی کہ اس وقت پاکستان نے اپنے برادرانہ تعلقات کی خوش فہمی میں افغان طالبان سے ان دہشتگردوں کے متعلق کوئی ضمانت طلب نہیں کی۔پاکستان کوچاہئے تھاکہ ان سب دہشتگردوں کی حوالگی کامطالبہ کرتایاپھرانہیں جیلوں میں قیدرکھنے کی مضبوط گارنٹی طلب کرتا۔تاہم زیادہ اہم سوال سفارت کاری کی کامیابی قدموں کی مسافت سے نہیں،نتائج کی پائیداری سے ناپی جاتی ہے۔
ایک توضیح نظریاتی قربت اورسابقہ رفاقت ہے۔دوسری،سخت کارروائی سے اپنے اندراختلاف یاجنگجوں کی مخالف گروہوں کی طرف منتقلی کااندیشہ۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ پرمبنی خبرمیں انہی روابط اورداعش خراسان کی طرف ممکنہ انتقال کے خدشے کاذکرملتاہے۔یہ توضیحات طالبان کے رویے کوسمجھنے میں مدددیتی ہیں،جواسے جائزنہیں ٹھہراتیں۔
حقانی حلقے اورقندھارکی قیادت کے اختلافات کوبھی دیکھاجاسکتاہے،جس کیلئے ٹی ٹی پی کولازماآئندہ داخلی خانہ جنگی کی محفوظ قوت بنایاجارہاہے۔داخلی کشمکش کاامکان کسی مخصوص خفیہ منصوبے کااہم حصہ معلوم ہوتے ہیں۔پاکستان کیلئیعملی کسوٹی واضح ہونی چاہیے:دہشتگردی کے تمام مراکزبندہوئے یانہیں،مالی راستے رکے یانہیں،منصوبہ سازوں کی آزادی محدودہوئی یانہیں،اورحملوں میں مستقل کمی آئی یانہیں۔نیت کے اعلانات سے زیادہ رویے کے نتائج اہم ہیں جس میں ابھی تک افغان طالبان دانستہ طورپرتمام ہمسایہ ممالک کوبھی مایوس کرچکے ہیں۔
افغانستان میں سابقہ فوجی ذخائرکی موجودگی اوران میں سے مخصوص ہتھیاروں کاپاکستان کے خلاف استعمال ایک مضبوط شواہدکے طورپرمضبوط دلیل ہیں۔دعوے کیلئے برآمدگی ، شناختی تفصیل اوررسدکی زنجیرثابت ہوچکی ہے۔اسی طرح بھارت کے سفارتی بیانات، طالبان سے رابطے اوردہشتگردگروہوں کی مالی معاونت تین الگ معاملات نہیں بلکہ ایک باضابطہ دہشتگردی کی ایک مکروہ کڑی ہے۔پاکستان کامقدمہ دستاویزی شہادت سے مضبوط ہورہاہے:قابلِ جانچ مالی ریکارڈ،ضبط شدہ مواصلات اورمنظم تفتیشی مواد۔وہ معتبرشواہد ہیں جومخالف کے انکارکے باوجودایک مضبوط شہادت کے بل پرقائم ہیں۔شہری نقصان کے بارے میں بھی یہی دیانت ضروری ہے۔فوجی ہدف کادعوی شہری ہلاکت کے امکان کوختم نہیں کرتا،اورمخالف فریق کابیان تنہاحتمی ثبوت نہیں۔حالیہ سرحدی کشیدگی کی خبررسانی میں شہری نقصان کامسئلہ نمایاں ہے۔آزادتصدیق،متاثرین تک رسائی اورغلطی کی صورت میں جواب دہی ریاستی وقارمیں اضافہ کرتے ہیں۔
افغانستان میں اقوامِ متحدہ کی نقدترسیلات کی اصل موجود ہے۔تاہم اقوامِ متحدہ نے واضح کیاتھاکہ یہ رقوم اس کے کام اورمنظورشدہ شراکت داروں کیلئے نجی بینک کھاتوں میں رکھی جاتی ہیں،طالبان حکومت یامرکزی بینک کوبراہِ راست نہیں دی جاتیں۔بالواسطہ فائدہ ایک الگ معاملہ ہے۔ٹیکس،فیس،مقامی خریداری یامداخلت کے ذریعے طالبان کے
مستفید ہونے کے خدشات کی نشاندہی امریکی نگران ادارے سے متعلق خبرمیں بھی کی گئی ہے۔گویااس سے ہرترسیل کوخفیہ اداروں کی براہِ راست ادائیگی قراردیاجانے کاقوی امکان ہے۔
ہرمنگل نیروبی سے لازما ًچارکروڑڈالرکی ترسیل ایک اورخطرناک سازش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔امدادکاانسانی مقصد،معاشی اثراور ممکنہ سیاسی فائدہ الگ الگ پرکھنے چاہییں ۔ اگرایسانہیں توسب ایک سازش کامخصوص ٹارگٹ ہے جوخطے میں اپنے اہداف کی تکمیل کیلئے استعمال میں لایاجارہاہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ کے برطانیہ کے دورے کے دوران میڈیا کوبریکنگ نیوزکے طورپرافغانستان کے سب سے بڑے ہوائی اڈے ننگرہارکوجلدامریکی استعمال کاعندیہ دیاگیاتھا۔
یادرہے کہ اس سلسلے میں طالبان کادہشتگردوں کوکنٹرول کرنے کیلئے پاکستان سے دس ارب روپے مانگنے کادعوی خواجہ آصف سے منسوب ہواجوانہوں نے اسمبلی کے فلورپر بتایا لیکن پاکستان نے اہم ضمانتوں کے بعداس کی ادائیگی کااشارہ بھی کیالیکن بعدازاں افغان طالبان کی طرف سے مطلوبہ ضمانتوں کوقبول نہ کرتے ہوئے سرے سے اس کی تردید کر دی لیکن اس کے باوجود طالبان کے بعض گروہوں نے اس کی تصدیق بھی کردی تھی لیکن پاکستان نے اس کوبلیک میلنگ سے تشبیہ دیتے ہوئے ردکردیاکہ بین الاقوامی اصولوں کے تحت افغان طالبان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے ہاں سے اپنے تمام ہمسایہ ممالک میں ہونے والی دہشتگردی کوروکے۔اصولی سوال زیادہ اہم ہے:جنگجوسرحدسے دورمنتقل ہوبھی جائیں توکیاان کی تنظیمی،مالی اورعملی صلاحیت ختم ہوگی؟محض جغرافیہ بدلنے سے خطرہ لازمانہیں مٹتا۔کسی بندوبست میں تخفیفِ اسلحہ،نگرانی،بھرتی کی روک تھام اورخلاف ورزی کے نتائج واضح ہونے چاہییں۔
سابق فاٹاکاخیبرپختونخوامیں انضمام ریاستی نظم کی اہم تبدیلی تھالیکن آئینی فیصلہ خودبخودروزمرہ انصاف،روزگاراورتحفظ پیدانہیں کرتا۔ اس کی تکمیل کیلئے عدالت،پولیس،بلدیاتی نمائندگی،تعلیم اوربنیادی سہولتوں کومثربناناضروری ہے جس کیلئے آئینی طریقہ اختیار کرتے ہوئے فاٹاکوخیبرپختونخواہ کاحصہ بنادیاگیاجس کے بعدوہاں وہ تمام قوانین کانفاذہوگیا جہاں سے اس خطے کی ترقیاتی کاموں کیلئے بھاری فنڈزمہیاکرکے وہاں کے مواصلاتی نطام کوترقی دیتے ہوئے تعلیم،صحت اورسیکورٹی کے تمام مروجہ نظام کوحرکت میں لایاگیاجہاں سے وہاں کے عوام کوزندگی کی تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کاکام تیزی سے جاری ہے جبکہ اس سے قبل فاٹاکے نظام میں دونوں اطراف کے افرادکوکھلے عام بغیرکسی شناخت کے ملکی نظام کوچیلنج کرنے کاخطرہ ہروقت موجودرہتاتھا۔ٹی ٹی پی ملکی قانونی نظام کوتسلیم کرنے کوتیارنہیں۔تاہم ریاستی عملداری کااصول واضح ہے:انتظامی بندوبست کسی مسلح گروہ کے دباؤ پرطے نہیں ہوناچاہیے۔
ریاست کی گرفت اس وقت پائیدارہوتی ہے جب شہری اسے اپنے حق کی محافظ سمجھیں۔اگرقانون حاضرہومگرانصاف غائب،راستہ بنے مگرروزگارنہ آئے،اورقربانی مانگی جائے مگر آوازنہ سنی جائے توبے اعتمادی باقی رہتی ہے۔بدرمفاہمت ہویاافغان حکمتِ عملی،پاکستان کی قوت کاآخری سرچشمہ اپنے شہریوں کااعتمادہے۔دفاعی استعداداس اعتمادکی نگہبان بنے توقومی طاقت میں وقارپیداہوتاہے؛اسی سے امن محض وقف جنگ کی بجائے ایک قابلِ دوام اجتماعی حالت بنتاہے۔