سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے دفترمیں بعض معاہدے محض رسمی دستخط بن کررہ جاتے ہیں اوربعض،اگرتدبیروتسلسل کاساتھ میسرآئے،قوموں کے مستقبل کی صورت گری کرتے ہیں۔تاہم کسی تازہ مفاہمت کی پیشانی پرعہدِنوکی فتح لکھ دینابھی عجلت ہے اوراسے بے مصرف کاغذسمجھ لینا بھی کوتاہ نظری۔قطر،ترکی،پاکستان اورانڈونیشیاکی بدرمفاہمت کواسی میزان پرپرکھنا چاہیے : اس کے ممکنہ مقاصدکیاہیں،عملی امکانات کتنے ہیں،اورعلاقائی سیاست اس کیلئے کون سے دروازے کھولتی یابندکرتی ہے؟
بدرمفاہمتی یادداشت پربدھ،21اکتوبر2026کودوحہ میں پاکستان،ترکی،قطراورانڈونیشیاکے دفاعی نمائندوں نے دستخط کیے۔ وزیرِدفاع خواجہ محمدآصف ، ترک وزیرِدفاع یشارگولر،قطرکے نائب وزیراعظم ووزیرِمملکت برائے دفاعی امورشیخ سعودبن عبدالرحمن آل ثانی اورانڈونیشیاکے نائب وزیرِدفاع یوسف جوہری شامل تھے۔ ترکی کے دفاعی صنعت کے سربراہ خلوق گورگون بھی دستخط کنندگان میں شامل تھے۔
اعلان کردہ مقاصدمیں دفاعی پیداوارکا فروغ،عسکری صلاحیتوں کی تقویت،تکنیکی تربیت اورتحقیق وترقی میں اشتراک شامل ہیں۔ترکی کے ایوانِ صدارت کے شعب ابلاغ نے بھی انہی میدانوں کومفاہمت کابنیادی محوربتایاہے۔اس اعتبارسے بدرکااولین تعارف دفاعی وصنعتی تعاون کاایک کثیرملکی ڈھانچاہے۔اسے فوری طورپراجتماعی جنگی اتحاد قراردینا درست نہیں۔دستیاب اعلانات خودکارفوجی مداخلت، مشترکہ کمان یاکسی ایک ملک پرحملے کوسب پرحملہ سمجھنے کی شق ثابت نہیں کرتے۔اسی طرح صرفمفاہمتی یادداشت کے عنوان سے یہ فیصلہ بھی نہیں کیاجاسکتاکہ اس کی ہرشق غیرلازم ہے؛اس کاانحصاراصل عبارت پرہوگا۔اصل امتحان عملی انتظام ہے:منصوبوں کی منظوری کون دے گا،سرمایہ کیسے فراہم ہوگا، حاصل شدہ ٹیکنالوجی کی ملکیت کس کے پاس ہوگی،اوراختلاف کی صورت میں فیصلہ کیسے ہوگا؟ اعلانات ارادے کاچراغ روشن کرتے ہیں؛ادارے اوروسائل اسے ہواسے بچاتے ہیں۔
عربی میں بدرمکمل چاندکوکہتے ہیں۔خبرمیں اس نام کی یہی تعبیربیان ہوئی ہے۔اسلامی تاریخی شعورمیں اس لفظ کی ایک دوسری،نہایت گہری بازگشت بھی موجودہے،لیکن مفاہمت کے نام سے کسی مخصوص جنگی یامذہبی محاذکامقصداخذکرناتحقیقی احتیاط کے خلاف ہوگا۔ اس کی موزوں سیاسی تعبیرتکمیلِ استعدادہے:ایک شریک کے پاس صنعت،دوسرے کے پاس سرمایہ،تیسرے کے پاس افرادی مہارت اور چوتھے کے پاس وسیع منڈی ہوتواشتراک نئی گنجائش پیداکرسکتاہے۔تاہم یہ تجزیاتی امکان ہے،طے شدہ تقسیمِ کارنہیں۔تہذیبی نسبت تعاون کوجذباتی توانائی دے سکتی ہے،لیکن دفاعی صنعت محض اخوت کے خطبوں سے قائم نہیں ہوتی۔اسے تحقیق،تربیت یافتہ انجینئر،معتبرمعیاراورمستقل سرمایہ چاہیے۔ اسلامی اخلاق کی روسے بھی عہدکی پاسداری،امانت اورعدل بنیادی اوصاف ہیں۔کسی منصوبے کاحسن اس کے نام سے بڑھ کراس کے کردارمیں ظاہرہوتاہے۔قطرکے سرکاری خبررساں ادارے نے مفاہمت میں دفاعی وزارتوں کے ساتھ پاکستان کے دفاعی پیداواری ادارے اورترکی کے دفاعی صنعت کے صدارتی ادارے کی شرکت بھی بیان کی ہے ۔ اس سے اس اقدام کاصنعتی پہلونمایاں ہوتاہے۔
تجزیاتی اعتبارسے مشترکہ مرمت،پرزہ سازی،تربیت،معیاربندی اورمنتخب تحقیق ابتدائی میدان ہوسکتے ہیں۔بڑے ہتھیاری منصوبوں کی نسبت محدوداورواضح اہداف پرتعاون جلد قابلِ پیمائش نتائج دے سکتاہے۔مثال کے طورپرکسی مشترکہ ضرورت کیلئیمقامی طورپرپرزے تیارکرنا،برسوں پرمحیط کسی پیچیدہ نظام کی مکمل مشترکہ تیاری سے زیادہ قابلِ عمل آغاز ہوسکتاہے لیکن مشترکہ پیداواراورحقیقی خود کفالت ایک چیزنہیں۔اگربنیادی پرزے،حساس برقی اجزایااجازت نامے تیسرے فریق کے اختیارمیں رہیں توانحصارکی گرہ پوری طرح نہیں کھلتی۔کامیابی کامعیاریہ ہوگاکہ شریک ممالک کتنی مستقل فنی صلاحیت حاصل کرتے ہیں،محض کتنی خریداری کرتے ہیں،یہ نہیں۔
کسی مخصوص حکومت کامصدقہ بیان سامنے نہ ہوتواس کی طرف خوشی،اضطراب یامخالفت منسوب کرناقبل ازوقت ہوگاالبتہ ممکنہ ردعمل کاتجزیہ کیاجاسکتاہے۔بھارت پاکستانی دفاعی استعدادمیں اضافے کاجائزہ لے سکتاہے؛خلیجی حکومتیں اسے سلامتی کے مزیدذرائع پیداکرنے کی کوشش سمجھ سکتی ہیں؛بڑی اسلحہ سازطاقتیں اس میں نئی شراکت یاتجارتی مسابقت دیکھ سکتی ہیں۔انڈونیشیاکی شرکت یہ یاد دلاتی ہے کہ ممالک کے تعلقات ایک ہی محورپرقائم نہیں رہتے۔کوئی ریاست پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھاتے ہوئے دوسرے ممالک سے اپنے روابط بھی برقراررکھ سکتی ہے۔سفارت کاری میں ہرنئی دوستی کسی پرانی دوستی کی نفی نہیں ہوتی۔اصل ردعمل معاہدے کے نام سے زیادہ اس کے نتائج پرمنحصرہوگا۔ مشترکہ کارخانہ،حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی،فوجی تعیناتی اورکسی تنازعے میں عملی شرکت،چارمختلف درجے ہیں۔ان سب کوایک ہی سیاسی مفہوم پہناناتجزیے کوغیرضروری طورپرتندو تیزبنادیتاہے۔
اس مفاہمت سے یہ نتیجہ ثابت نہیں ہوتاکہ امریکاخطے سے اپنابوریابسترلپیٹ رہاہے۔مقامی دفاعی تعاون میں اضافہ اورامریکی موجودگی کاخاتمہ دوالگ سوال ہیں۔ریاستیں بسا اوقات پرانے سلامتی تعلقات برقراررکھتے ہوئے نئے سہارے بھی پیداکرتی ہیں۔امریکی انخلاکامعتبر جائزہ فوجی اڈوں،عملی تعیناتی،دفاعی وعدوں اورسرکاری فیصلوں سے ہوگا ۔ اس کے برعکس اکتوبرکی دستیاب خبررسانی میں امریکی عسکری موجودگی بڑھنے اورایران کے ساتھ کشیدگی برقراررہنے کی اطلاعات بھی موجودہیں؛اس لیے بدرکوامریکی رخصتی کاقطعی اعلان قراردیناخصوصامشکل ہے۔
زیادہ محتاط تعبیریہ ہے کہ بعض ممالک غیریقینی حالات میں اپنے اختیارات وسیع کرناچاہتے ہیں۔اس خواہش میں خوداعتمادی بھی ہو سکتی ہے اورخارجی ضمانتوں کے بارے میں اندیشہ بھی۔تاریخ کاپہیہ ہمیشہ ایک سلطنت کے نکلنے اوردوسری کے داخل ہونے سے نہیں گھومتا؛بعض اوقات کئی طاقتیں ایک ہی میدان میں مختلف درجوں کی موجودگی برقراررکھتی ہیں۔
ایران کیلئے بنیادی سوال مفاہمت کی عملی سمت ہوگا۔اگریہ دفاعی پیداواراورتربیت تک محدودرہے تواس کے معنی کچھ اورہوں گے؛اگر اس کااستعمال ایرانی اہداف کے خلاف عسکری کارروائیوں میں ہوتومعنی بدل جائیں گے۔لہذاایرانی ردعمل کے بارے میں قطعی پیش گوئی کے بجائے ان شرائط کوواضح کرنازیادہ مفیدہے۔پاکستان کیلئییہاں نازک توازن درکار ہے۔ایران ہمسایہ ہے،جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے اہم تعلقات ہیں۔ایک طرف کی قربت کودوسری طرف کی دشمنی بنادیناسفارتی گنجائش گھٹاسکتاہے۔ بہتر حکمتِ عملی واضح ابلاغ ہے:دفاعی تعاون کادائرہ کیاہے اوراس کی حدود کہاں ہیں؟بدرکے بارے میں کسی مخصوص،مصدقہ ایرانی سرکاری ردعمل کی عدم موجودگی میںایران خوفزدہ ہییاایران اسے اپنے خلاف اتحادسمجھتاہے جیسے جملے قیاس ہوں گے۔محقق کاکام پردہ غیب اٹھانانہیں،معلوم اورنامعلوم کے درمیان حدقائم رکھناہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان سے منسوب بیان میں آبنائے ہرمزسے گزرنے والی مواصلاتی تاروں اورنئے اہداف کاذکرسامنے آیا ہے۔اسی خبرمیں دوسرے ایرانی عہدیدار کی جانب سے زیرِآب تاروں،معلوماتی مراکزاورمتعلقہ تنصیبات کوممکنہ ہدف بنانے کی دھمکی بھی بیان ہوئی۔یہ دھمکی کی خبرہے؛اسے حملہ ہوجانے کی خبرنہیں سمجھناچاہیے۔ ان تاروں کونقصان شدیدمعاشی ومواصلاتی خلل پیداکر سکتاہے،لیکندنیابھرکے تمام تجارتی اداروں کی بربادیایک مبالغہ آمیزنتیجہ ہے۔اصل اثرنقصان کی جگہ،متبادل راستوں، اضافی گنجائش اوربحالی کی مدت پرمنحصرہوگا۔قطرنے بھی متنبہ کیاکہ ایسی کارروائی علاقائی ممالک سمیت ایران کونقصان پہنچائے گی۔یہ تنبیہ اہم ہے:جدید معیشت کی رگیں ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔مخالف کیلئے کھودی گئی خندق کبھی اپنے راستے بھی کاٹ دیتی ہے۔اس لیے شہری مواصلاتی ڈھانچے کاتحفظ محض فنی ضرورت نہیں،اجتماعی معاشی مفادبھی ہے۔
20/اکتوبرکی خبرکے مطابق فیلڈمارشل عاصم منیرایک وفدکے ساتھ تہران پہنچے اورتعطل کاشکارسفارتی کوششوں کے تناظرمیں ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔اس دوران ایران نے مذاکرات کیلئیامریکی دھمکیوں اورپابندیوں کے خاتمے پرزوردیا۔دستیاب خبردورے کو مصالحتی کوششوں کے تسلسل کو سردمہری سے تعبیرکی جارہی ہے اوریہ بھی کہاجارہا ہے کہ پاکستان نے ثالثی چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے۔اسی طرح یہ کہنابھی زائدہوگاکہ دورے کاواحدمقصد ایران کومواصلاتی تاریں کاٹنے سے روکناتھا،درست نہیں۔بندکمرے کی گفتگو کے بارے میں سرکاری تفصیل کے بغیرمخصوص مقصداخذنہیں کرناچاہیے۔البتہ کشیدگی کم کرنا،مذاکرات کی گنجائش محفوظ رکھنااورجنگ کے معاشی اثرات محدودکرناپاکستان کے مفاد میں ہیں۔مثرثالث وہ نہیں جوہرفریق کے سامنے ایک ہی لہجہ اختیارکرے،بلکہ وہ ہے جو اختلاف کے باوجوداعتبارقائم رکھے اورقابلِ قبول راستہ سامنے لائے۔تاہم ایرانی سرکاری میڈیانے اس دورے کو بہت سراہاہے۔
پاکستان کی اہمیت اس کے جغرافیے،عسکری استعداد،آبادی اورمختلف مراکزِقوت تک رسائی سے پیداہوتی ہے۔ایران سے ہمسائیگی اور خلیجی ممالک سے تعلقات اسے ایک مفید رابطہ کاربناسکتے ہیں۔تاہم رابطہ ہونااورفریقین کوفیصلہ قبول کراسکناالگ صلاحیتیں ہیں۔ثالثی کا دارومداراس امرپربھی ہے کہ متحارب قوتیں سمجھوتے کیلئے کتنی آمادہ ہیں۔اگربنیادی اختلاف برقرارہوتوپیغام رسانی مذاکرات کادروازہ کھلارکھ سکتی ہے،مگرخودبخودتصفیہ پیدانہیں کرتی۔پاکستان کیلئے داخلی استحکام بھی خارجی اثرکاسرمایہ ہے۔معاشی قوت،آئینی اعتماداورادارہ جاتی تسلسل کے بغیرسفارتی کامیابیوں کابوجھ اٹھانامشکل ہوتاہے۔بہترصورت یہ ہے کہ عسکری رابطہ،وزارتِ خارجہ کی مہارت اورمنتخب حکومت کی سیاسی ذمہ داری ایک مربوط قومی پالیسی میں ڈھلیں۔شخصی رسائی راستہ کھول سکتی ہے؛مستقل ادارے اس راستے کو شاہراہ بناتے ہیں۔(جاری ہے)