موسمیاتی تبدیلی اور حالیہ سیلاب نے پنجاب کے فش فارمز کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے، جس سے مچھلی کی پیداوار اور مارکیٹ میں بحران پیدا ہو گیا ہے۔
قصور، حافظ آباد اور مظفرگڑھ کے اضلاع میں درجنوں فارمز مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، لاکھوں مچھلیاں بہہ گئی ہیں اور انڈسٹری کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔فارمرز کا کہنا ہے کہ سیلاب سے نہ صرف ان کا سرمایہ ڈوب گیا ہے بلکہ وہ اگلے سیزن کے لیے بھی مالی مشکلات کا سامنا کریں گے۔ فش فارمز ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق، صرف 500 ایکڑ فارم کا نقصان کروڑوں روپے میں ہے، اور اگر حکومت فوری طور پر امداد فراہم نہ کرے تو کاروبار بند ہو سکتا ہے۔
لاہور فش مارکیٹ کے حکام کے مطابق، پیداوار میں 40 فیصد کمی سے قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، اور آئندہ دنوں میں مچھلی کے نرخ 30 سے 40 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں فش فارمنگ ایک اہم شعبہ ہے، لیکن موسمیاتی غیر یقینی صورتحال اس کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔
حکومت نے متاثرہ اضلاع سے رپورٹیں طلب کر لی ہیں اور اعلان کیا ہے کہ کسانوں کی بحالی کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے گا۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ قرضے معاف کیے جائیں اور انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لیے آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ اس شعبے کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔