اڈیالہ جیل سے عمران خان کے حکم پر وزیراعلیٰ بنائے گئے سہیل آفریدی کی حکومت کے پہلے ہی دن وفاقی حکومت کے ایک وزیر کے گھر پر بم حملہ ہوگیا۔
تاہم وزیراعلیٰ نے اس سنگین واقعے کا نوٹس لینے کے بجائے پی ٹی آئی کی رہنما صنم جاوید کے چند روز قبل ہونے والے مبینہ اغوا کے واقعے کی تفتیش کا نوٹس لینا زیادہ ضروری سمجھا۔باجوڑ میں وزیرِاعظم شہباز شریف کے معاونِ خصوصی برائے قبائلی امور اور رکنِ قومی اسمبلی مبارک زیب کے گھر پر دستی بم حملہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ “نامعلوم افراد” کی کارروائی تھی۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم بم پھٹنے سے گھر کے باہر کھڑی گاڑی کو نقصان پہنچا۔پولیس نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے مگر اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، نہ ہی تحقیقات میں کوئی خاص پیش رفت ہوئی ہے۔یہ تیسرا حملہ ہے جو مبارک زیب کے گھر پر کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ مبارک زیب، پی ٹی آئی کے کارکن ریحان زیب کے بھائی ہیں، جو گزشتہ سال فروری میں عام انتخابات کے دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد حلقہ این اے باجوڑ-8 میں انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔ بعد ازاں اپریل میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مبارک زیب نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے سنی اتحاد کونسل کو اپ سیٹ شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔
ان کی کامیابی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں معاونِ خصوصی برائے قبائلی امور مقرر کیا۔
اسلام آباد میں تو مبارک زیب کو وزیراعظم کے معاونِ خصوصی کی حیثیت سے ایک نمایاں مقام حاصل ہے، لیکن ان کے آبائی علاقے باجوڑ میں وہ مسلسل خطرات کی زد میں ہیں — آئے روز ان پر حملے ہوتے ہیں، مگر حملہ آور ہمیشہ “نامعلوم” ہی رہتے ہیں۔دوسری جانب، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حکومت سنبھالتے ہی پہلا نوٹس صنم جاوید کے مبینہ اغوا سے متعلق لیا۔انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس کو اپنے دفتر طلب کر کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ فوری طور پر پیش کرنے کی ہدایت کی۔صنم جاوید، جو پی ٹی آئی کی متحرک کارکن اور عدالتی مفرور قرار دی گئی ہیں، چند روز قبل پشاور کی ایک سڑک سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھیں۔