سکہ منڈی بہاء الدین کا خاموش مؤرخ

ندیم اختر
منڈی بہاء￿ الدین کی زرخیز زمین صدیوں سے تاریخ کی امین رہی ہے۔ یہاں سے برآمد ہونے والے قدیم سکے، برتن، مجسمے، اور اینٹیں ہمیں اس علاقے کے تہذیبی ارتقاء￿  کی جھلک دکھاتے ہیں۔ یہ سرزمین  دریائے چناب کے کنارے آباد ایک زرخیز میدان ہے بلکہ تہذیبوں کے ملاپ اور سیاسی ادوار کے بدلتے رنگوں کا خاموش گواہ بھی ہے۔ حال ہی میں، مجھے اور میرے بچوں کو ضلع کے ایک قدیم مقام سے ایک نادر سکہ ملا، جس پر سنسکرت رسم الخط میں "شری جتال" لکھا ہوا تھا۔ یہ سکہ تانبا دھات کا بنا ہوا ہے، اور اس پر کندہ علامتیں "6" یا "G" سے مشابہہ ہیں، جو اپنی ساخت، خطاطی، اور علامتی حیثیت سے ہندو شاہی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس سکے کی سطح پر وقت کے اثرات ضرور دکھائی دیتے ہیں مگر اس کے نقوش آج بھی ماضی کی ایک زندہ تصویر پیش کرتے ہیں۔
کوئی بھی سکہ تاریخ کا خاموش مؤرخ ہوتا ہے۔ یہ ایک دھات کا ٹکڑا ضرور ہے، مگر اس پر لکھی تحریریں، تصاویر، علامتیں اور زبانیں صدیوں پر محیط تہذیبوں، حکومتوں، عقائد اور معیشتوں کی آئینہ دار ہیں۔ یہ سکہ ممکنہ طور پر ہندو شاہی عہد سے وابستہ ہے، جو اس خطے کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ہندو شاہی خاندان، جسے کشمیر شاہی بھی کہا جاتا ہے، شمال مغربی ہندوستان، افغانستان، اور موجودہ پاکستان کے کچھ حصوں پر حکمرانی کرنے والا ایک طاقتور خاندان تھا۔ ان کا دور تقریباً ساتویں صدی عیسوی سے گیارہویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا تھا۔ ان کی سلطنت نے کشمیر، پنجاب اور غزنی جیسے علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کیں اور یہاں کے سیاسی و مذہبی رجحانات پر گہرا اثر چھوڑا۔
ہندو شاہی سلطنت کی بنیاد تقریباً 650ء￿  کے قریب رکھی گئی، جب کابل شاہی خاندان کے زوال کے بعد یہ طاقتور حکومت ابھری۔ اس سلطنت کا آغاز افغانستان کے پہاڑوں سے ہوا اور رفتہ رفتہ یہ اقتدار دریائے سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقوں تک پھیل گیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب برصغیر میں ہندومت اور بدھ مت دونوں مذاہب اپنی انتہا پر تھے، اور سیاسی طاقتیں مذہبی شناخت کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں۔ ہندو شاہی سلطنت کا زوال محمود غزنوی کے حملوں سے شروع ہوا۔ 1008ء￿  میں پشاور کے قریب وائی ہند کے مقام پر ہونے والی جنگ فیصلہ کن ثابت ہوئی، جس میں آنند پال کی شکست کے بعد ہندو شاہی سلطنت کی بنیادیں ہل گئیں۔ 1025ء￿  تک ان کی حکومت ختم ہو چکی تھی، لیکن ان کے سکوں اور آثار نے اس عہد کی یاد کو زندہ رکھا۔
ہندو شاہی حکمرانوں میں جے پال پہلا معروف بادشاہ تھا جس نے 997ء￿  میں محمود غزنوی کے خلاف بہادری سیمزاحمت کی، مگر بالآخر شکست کھائی۔ اس کے بیٹے آنند پال نے 1008ء￿  میں غزنویوں کے خلاف اتحاد تشکیل دیا لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ ان شکستوں کے باوجود ہندو شاہی حکمرانوں نے علم، فن، اور سکہ سازی میں اپنی الگ شناخت قائم رکھی۔ ان کے سکے اس دور کی اقتصادی طاقت کے مظہر تھے۔ ہندو شاہی دور کے سکے زیادہ تر تانبا، چاندی اور کبھی کبھار سونا استعمال کر کے بنائے جاتے تھے، جن پر سنسکرت رسم الخط میں بادشاہوں کے نام یا مذہبی علامات کندہ کی جاتیں۔ یہ سکے صرف لین دین کے لیے نہیں بلکہ مذہبی و سیاسی شناخت کا اظہار بھی تھے۔
ابھی جس سکے "شری جتال" کی بات کی جا رہی ہے، یہ غالباً جے پال (965–1001ء￿ ) یا اس کے بعد کے کسی مقامی راجہ کے زمانے کا ہو سکتا ہے۔ یہ سکے ہندو شاہی سلطنت کی معاشی خودمختاری اور علاقائی تسلسل کا نشان تھے۔ بعض مؤرخین کے مطابق "شری جتال" ایک مذہبی یا علامتی سکہ تھا، جو شاید کسی مخصوص مندر یا مقامی مرکز میں جاری کیا گیا۔ تاہم سکے پر درج لفظ "شری" یہ واضح کرتا ہے کہ یہ کسی شاہی یا باعزت ہستی سے منسوب ہے۔ سنسکرت میں "شری" کا مطلب عزت، برکت، اور تقدس ہوتا ہے، جو زیادہ تر دیوی دیوتاؤں یا بادشاہوں کے ناموں کے ساتھ بطور القاب استعمال ہوتا تھا — جیسے "شری کرشن"، "شری رام"، یا "شری ہری"۔
دوسری طرف "جتال" کا لفظ سنسکرت میں الجھا ہوا یا زلفوں والا معنی رکھتا ہے، جو بعض اوقات شیو جی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ ‘‘شری جتال’’ کوئی راجہ یا مقامی گورنر ہو، جو ہندو شاہی کے زیر اثر کسی علاقے پر حکمرانی کرتا ہو، یا پھر یہ سکہ کسی مذہبی پیشوا کے احترام میں جاری کیا گیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جتال نامی کوئی مقامی راجہ ہو جس نے مرکزی شاہی اقتدار کے کمزور ہونے پر اپنی خودمختاری ظاہر کرنے کے لیے اپنا سکہ جاری کیا ہو۔ ہندو شاہی دور میں ایسے کئی چھوٹے راجے اور مقامی حکمران تھے جو اپنے نام یا مذہبی عقیدت کی علامت کے طور پر سکے جاری کرتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت کے برصغیر میں اقتدار صرف مرکز میں نہیں بلکہ علاقائی سطح پر بھی تقسیم تھا۔
"شری جتال" کے سکے کی علامتیں بھی اپنی نوعیت میں منفرد ہیں۔ اس پر کندہ شکل "6" یا "G" ممکنہ طور پر شیو مت یا بدھ مت کی کسی علامت کی تجریدی صورت ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ علامت دراصل تری رتنا یعنی بدھ مت کے تین قیمتی اصولوں — بدھ، دھرم، اور سنگھ — کی نمائندگی کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ سکہ ہندو شاہی دور کی اس مذہبی رواداری کی علامت ہے جہاں ہندومت اور بدھ مت دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے موجود تھے۔ ہندو شاہی بادشاہ اکثر خود کو شیو بھگت کہلواتے تھے مگر بدھ متی خانقاہوں کی سرپرستی بھی کرتے تھے۔ ان کی پالیسیوں میں مذہبی رواداری کا یہ پہلو نمایاں تھا، جو اس دور کی قدامت پسندی کو ظاہر کرتا ہے
منڈی بہاء￿ الدین سے "شری جتال" سکہ ملنا دراصل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہندو شاہی سلطنت کا اثر پنجاب کے اس حصے تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ علاقہ اْس وقت ایک فعال تجارتی راستہ تھا، جو ٹیکسلا، کابل، اور ملتان جیسے مراکز کو جوڑتا تھا۔ منڈی بہاء￿ الدین کے قریب دریائے چناب کے کنارے قدیم بستیاں موجود تھیں جو زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھیں۔ یہاں کے بازاروں میں مختلف تہذیبوں کے سکے چلتے تھے، جن میں یونانی، کشان، گپت، ترک شاہی اور ہندو شاہی ادوار کے سکے شامل تھے۔ شری جتال کا سکہ اس تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے جس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ کہ اس خطے میں صدیوں سے مسلسل تہذیبی رابطہ اور تبادلہ جاری رہا ہے۔
یہ سکہ  ہندو شاہی حکمران یا علاقے کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ ، اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس وقت کے معاشرے میں مذہبی اور سیاسی طاقت کس طرح گڈمڈ ہو کر ایک دوسرے کو سہارا دیتی تھیں۔ سکے پر ‘‘شری’’ کی موجودگی جہاں شاہی وقار کی علامت ہے وہیں یہ مذہبی شناخت کا بھی اظہار ہے۔ سکے کی یہ خصوصیت اسے محض معاشی استعمال کی شے نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز بناتی ہے جو ہمیں اْس 
زمانے کے فکری اور ثقافتی رجحانات سے روشناس کراتی ہے۔
منڈی بہاء￿ الدین سے اس سکے کا برآمد ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہندو شاہی اثرات کا دائرہ کار کابل سے لے کر پنجاب کے وسط تک پھیلا ہوا تھا۔ اس دریافت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کے مقامی باشندے اْس وقت بھی تہذیبی لحاظ سے ترقی یافتہ تھے، جو مختلف سلطنتوں کے اثرات کو اپنے اندر جذب کرتے رہے۔ یہ خطہ، جو آج کھیتوں، باغوں اور نہروں سے مزین ہے، کبھی ایک متحرک تمدنی مرکز رہا ہوگا، جہاں علم، تجارت، اور مذہب ایک ساتھ پروان چڑھتے تھے۔
 "شری جتال" کا سکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ منڈی بہاء￿ الدین کی زمین نہ صرف زرخیز ہے بلکہ تہذیبی ورثے سے بھی معمور ہے۔ اس  دریافت سے منڈی بہاء￿ الدین میں تاریخ کے نئے ابواب کا اضافہ ہو گا۔بلکہ آنے والی نسلوں کے لییبھی  ایک پیغام ہے کہ وہ اپنے علاقے کی مٹی میں چھپی تاریخ کو پہچانیں، محفوظ کریں، اور اسے دنیا کے سامنے لائیں۔ کیونکہ زمین صرف کھیتی کے لیے نہیں بلکہ یادوں اور تاریخوں کے بیج بونے کے لیے بھی ہوتی ہے۔