ویب ڈیسک:پرو کے دارالحکومت لیما میں جاری ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (ایپک) سمٹ میں دنیا بھر کے اہم رہنما شریک ہیں، جن میں امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ بھی شامل ہیں۔
یہ اجلاس عالمی اقتصادی اور تجارتی مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے اہم موقع ہے، جہاں مختلف ممالک کے سربراہان اپنے ملکوں کے مفادات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق، بائیڈن اور شی جن پنگ کی ملاقات ایپک سمٹ کے سائیڈ لائن پر ہوگی۔ اس ملاقات کا مقصد چین-امریکہ تعلقات میں موجود کشیدگی کو کم کرنا اور عالمی مسائل پر بات چیت کرنا ہے۔ اس ملاقات میں، جو بائیڈن چینی صدر سے یوکرین جنگ میں چین کے روس کے ساتھ تعاون پر تشویش کا اظہار کریں گے، ساتھ ہی شمالی کوریا کے فوجیوں کی روس میں موجودگی پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
مزید برآں، امریکی صدر بائیڈن تائیوان کے معاملے پر چین کی پالیسی اور سائبر سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی اپنے تحفظات شیئر کریں گے۔ اس ملاقات کو دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان تقریباً چھ ماہ بعد ہونے والے براہ راست رابطے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں نے اپریل میں ٹیلی فون پر بات کی تھی، مگر یہ ملاقات براہ راست ہے۔اس ملاقات کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ امریکہ اور چین کی عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی پوزیشنز عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔