تبدیلی کا جواز

 (ثمرعباس لنگاہ)

زندگی ایک مسلسل سفر ہے، جس میں ہر لمحہ کچھ نیا سیکھنے اور تجربات سے آگاہ ہونے کی کوشش ہوتی ہے۔ انسان ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ وہ اپنے اندر کسی نہ کسی نوع کی تبدیلی لائے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم تبدیلی کی ضرورت کو تو سمجھتے ہیں، مگر اس کا جواز تلاش نہیں کر پاتے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم حقیقتاً تبدیلی کی طاقت کو سمجھتے ہیں؟ یا پھر صرف ایک وقتی اْبال میں اس کا پیچھا کرتے ہیں؟

تبدیلی کا تصور ایک ایسا جادو ہے جس کی طاقت سے ہم اکثر لاعلم ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ تبدیلی ہمیشہ بڑی اور واضح ہونی چاہیے، مگر حقیقت میں یہ ہمیشہ چھوٹے، ناپیدا عناصر میں چھپی ہوتی ہے۔ وہ لمحے جب ہم اپنے معمولات میں تھوڑی سی ہمت، ذرا سا صبر، اور مزید تھوڑی سی محنت شامل کرتے ہیں، وہ لمحے ہی اصل تبدیلی کے ہیں۔

دوسری طرف، ہماری اجتماعی سوچ میں تبدیلی کی تعریف بھی عجیب و غریب ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ بیرونی عوامل سے جڑی ہوتی ہے، جیسے حکومت، معاشرتی ادارے، یا کوئی بڑی تحریک۔ لیکن کوئی اگر ہمیں بتائے کہ ایک چھوٹا سا شخص، جو دن رات محنت کے ساتھ اپنی ذاتی زندگی میں بہتری لا رہا ہے، وہ بھی تبدیلی کے عمل کا حصہ ہے تو ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آخر یہ تبدیلی کا کونسے پیمانہ ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمیں اس چھوٹی سی تبدیلی کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ اس کا جواز ہمیں قرآن کی آیات میں ملتا ہے جہاں بار بار انسانوں کو اپنی حالتوں میں تبدیلی لانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔"
(الرعد، 11)

یہ آیت ہمیں واضح کرتی ہے کہ تبدیلی کی اصل قوت ہمارے اندر ہے۔ یہ صرف ہمارے عزم، ارادے اور محنت سے جڑی ہے۔

یقیناً تبدیلی کی حقیقت صرف باہر کے اثرات پر نہیں، بلکہ اندر کے ارتقاء￿  پر بھی منحصر ہوتی ہے۔ وہ شخص جو اپنی سوچ کو بدل کر اپنے روایتی اور محدود انداز سے آگے بڑھتا ہے، دراصل وہ تبدیلی کے عمل میں حصہ لے رہا ہوتا ہے۔


ہم سب کو چاہیے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اْس میں نیاپن لانے کی کوشش کریں۔ یہ نیاپن محض ظاہری نہیں، بلکہ داخلی طور پر بھی ہو سکتا ہے۔ انسان کا اندرونی جہان جب بدلتا ہے تو باہر کی دنیا خود بخود بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔

لہذا، تبدیلی کو ایک خارجی جواز کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک داخلی احساس کی ضرورت ہے۔ جو تبدیلی اپنے اندر سے شروع ہوتی ہے، وہ بیرونی دنیا میں ایک انقلابی اثر پیدا کرتی ہے۔ اس کا آغاز ایک چھوٹے سے قدم سے ہوتا ہے، مگر اثرات وسیع اور دیرپا ہوتے ہیں۔

ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا: کیا ہم حقیقتاً تبدیلی کے اس عمل میں شریک ہیں؟ کیا ہم نے اپنے اندر اس جرات کو جگایا ہے جو ہمیں اپنی حالت بدلنے کے لیے درکار ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس جواز کو تلاش کریں کہ آپ کیوں نہیں تبدیلی کا حصہ بن رہے۔ اور جب آپ یہ جواز سمجھ جائیں گے تو اس تبدیلی کی اصل طاقت آپ کے اندر خود بخود جاگ اٹھے گی۔

اور ہاں یاد رکھیے تبدیلی راتوں رات نہیں آتی بلکہ وقت لگتا ہے۔۔۔