پاکستان ہا کی ا نتظا میہ میں تبدیلی کیوں ضرو ری؟

مسرور احمد مسرور

پاکستان ہاکی جو کبھی ہمارا قومی کھیل ہوا کرتا تھا، آج اس کھیل کی حالت دگرگوں ہے اسے اب ضلعی کھیل بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے سابق اسٹار پلیئرز نے اپنے اعلیٰ درجے کے کھیل کی بدولت پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس کھیل کی انتظامیہ میں ایسے بدعنوان عناصر کو پاکستان ہاکی کی ترقی و ترویج کے لیئے سامنے لایا گیا جو کسی طرح بھی اس ذمے داری کے قابل نہ تھے اور جنھوں نے پاکستان ہاکی کو فروغ دینے کے بجائے اپنے بینک بیلنس بڑھانے پر توجہ دی۔ کرپشن کے ذریعے پاکستان ہاکی کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ پاکستان ہاکی ٹیم جو اپنی اعلیٰ کارکردگی سے تمغوں کے حصول میں ہمیشہ کامیاب و کامران لوٹتی تھی  ا سے چند عناصر کی
خود غر ضی کی وجہ سے ا سے آج اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ ما تم کرنے کے سوا کوئی چا رہ نہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے گزشتہ دس پندرہ سالوں میں اپنی جیبیں بھرنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہ کیا اس سے پہلے پاکستان ہاکی کے صدر خالد سجاد نے جب اپنی ذمے داریاں سنبھالی تھیں تو عالمی رینکنگ میں پاکستان ہاکی 10 ویں نمبر پر تھی ، جو بتدریج زوال پذیر ہوتے ہوتے 17 ویں پوزیشن پر آ گئی لیکن PHF کے عہدیدار اپنے عہدوں پر جمے بیٹھے رہے اور ہاکی کی بہتری کے لیے ایک قدم بھی آگے بڑھانے میں کامیاب نہ ہوئے۔ ٹوکیو اولمپکس کے لیے ہماری ٹیم کوالیفائی نہ کر سکی اس سے بڑا اور کیا المیہ ہو سکتا ہے لیکن بدعنوان عناصر کو کھلی چھٹی دی گئی اور یہ لوگ ہاکی کو نقصان پہنچاتے رہے، افسوس صد افسوس کہ پاکستان کے سونے جیسی ہاکی کو تباہ کر دیا گیا۔
دوسرے جن لوگوں کو پاکستان ہاکی کا ذمے دار بنا یا گیا وہ بھی پہلے جو لوگ تھے ان کے باپ نکلے اور پاکستان ہاکی کو نقصان پہنچاتے         رہے ان کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات کی ایک طویل فہرست ہے ، ان لوگوں کو فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے نوٹسز جاری ہوئے، انھیں قومی احتساب بیورو میں طلب کیا گیا لیکن نامعلوم وہ کون سی طاقت تھی جو ان لوگوں کو کور دیئے ہوئے تھی آج پاکستان ہاکی بدترین دور سے گزر رہی ہے، ہاکی جس پر پوری قوم ناز کیا کرتی تھی، اب ہاکی کو بھلا بیٹھی ہے، حکومت اپنے مسائل میں اس طرح منہمک ہے کہ اسے پاکستان کے قومی کھیل کی طرف آنکھ آٹھا کر دیکھنے کی فرصت ہی نہیں۔
11 اگست کا دن پاکستان ہاکی کے لیے اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ 1984 میں لاس اینجلس اولمپکس میں اس تاریخ کو جرمنی کو 2-1 سے شکست دے کر گولڈ میڈل حاصل کیا تھا جو اب تک ہمارا آخری گولڈ میڈل ہے۔ اس کے بعد تو پھر ہاکی کو نظر لگ گئی اور ہاکی پر بدعنوان عناصر کا قبضہ ہو گیا تو پاکستان ہاکی کی آن، شان، بان سب ختم ہو کر رہ گئی۔
11 اگست 1984 کی گولڈ میڈلسٹ ٹیم میں ہمارے کئی اسٹار پلیئر شامل تھے جن میں سے ایک 66 سالہ رشید الحسن بھی ہیں۔ ان کا تعلق گوجرہ سے ہے، جو ہاکی کی نرسری مانا جاتا ہے کیونکہ اس شہر نے پاکستان ہاکی کو کئی اولمپین اور انٹرنیشنل کھلاڑی دیے۔
رشید الحسن کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ ان کے پاس ہر سینئر اور جونیئر عالمی مقابلوں کا گولڈ میڈل ہے۔ دو کھلاڑی ایسے اور ہیں جن میں منظور جونیئر اور کلیم اللہ بھی شامل ہیں جو تمام عالمی مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں۔
رشید الحسن نے 11 اگست کو گوجرہ میں اپنی حویلی میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس منعقد کی اور وزیر اعظم کی توجہ پاکستان ہاکی کی تباہی اور اس کے ذمے دار عہدیداران کی جانب مبذول کروائی اور انھیں اپنے عہدوں سے فارغ کرنے کا مطالبہ کیا۔انھوں نے احتجاجاً اپنا اولمپک گولڈ میڈل نیلام کر نے اور اس کیساتھ ملنے والا اعزازی سرٹیفکیٹ بھی واپس کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پریس کانفرنس کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے۔
آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بگٹی کو نوٹس جاری کر دیا ہے کہ وہ سات دن کے اندر تمام الزامات کا جواب دیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خدا کرے کہ پاکستان ہاکی سے بدعنوان عناصر کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور پاکستان ہاکی کو نئی زندگی عطا ہو۔