حکومت نے 60 ارب کی سبسڈی دی ، کنٹریکٹ ملازمین کے مستقبل کے بارے میں سوچا جارہا ہے،چیئرمین رانا تنویر حسین
اسلام آباد( آن لائن ) سینیٹ صنعت وپیداوار کمیٹی نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی ممکنہ نجکاری کا جائزہ لینے کیلئے اگلے اجلا س میں تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے ،جمعہ کو کمیٹی کا اجلاس چیرمین سینیٹر عون عباس کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائو س میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویرحسین سمیت دیگر حکام نے شرکت کی ۔اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے نجکاری میں جانے والے اداروں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپویشن سمیت کئی اداروں کی رائٹ سائزنگ کی جائے گی ۔اس موقع پر وفاقی وزیر رناتنویر نے کہا کہ زیادہ تر سٹورز نقصانات میں ہیں، حکومت نے 60 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، اگر یوٹیلیٹی سٹورز کی نجکاری کرنی ہے تو ہزاروں ملازمین کا کیا مستقبل ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کارپوریشن سے کسی بھی ملازم کو نہیں نکالا جائے گا تاہم اس کو منافع بخش بنانے کے لیے ری سٹرکچرنگ کرنی ہوگی ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کارپوریشن کے 11 ہزار ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا ۔جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ کارپوریشن کے مستقل ملازمین موجود رہیں گے جبکہ شدید نقصان میں جانے والے سٹوروں کو بند کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سیاسی بنیادوں پر کارپوریشن میں بھرتیاں کی گئی اور ایک ہی ضلع سے ہزار افراد کو بھرتی کیا گیا ہے، کنٹریکٹ ملازمین کے مستقبل کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔ رکن کمیٹی سیف اللہ نیازی نے کہا کہ اگر نقصان میں جانے والے سٹوروں کو فرنچایز کیا جائے تو حکومت نقصان سے بچ سکتی ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کا بنیادی مقصد عوام کو کم قیمت پر اشیائے ضرورت فراہم کرنا ہے اب سٹوروں پر ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے، غریب عوام کو سستی اشیاء ملنا ضروری ہے ، یہ تجویز پیش کی ہے کہ ٹی سی پی کو وزارت نیشنل فوڈ کے حوالے کیا جائے گا تاکہ ضرورت کے وقت چینی اور گندم سمیت دیگر اشیاء کی درآمد ہوسکے۔ کمیٹی نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ طلب کرلی ہے جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے ذیلی کمیٹی کو تمام دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔