تلسی گبارڈ روس اور شام کے لیے نرم موقف اور انٹیلی جنس کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتیں،حکام وماہرین
واشنگٹن (آئی این پی) امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خفیہ ادارے کی سربراہی کے لیے تلسی گبارڈ کے انتخاب نے قومی سلامتی اسٹیبلشمنٹ کو چونکا دیا ہے اور ان کی تشویس میں مزید اضافہ کر دیا ہے کہ اس اقدام سے انٹیلی جنس کمیونٹی سیاست کی نذر ہو جائے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈیموکریٹ جماعت کا حصہ رہنے والی رکن کانگریس تلسی گبارڈ نہ صرف روس اور شام کے لیے نرم موقف رکھتی ہیں بل کہ انٹیلی جنس کا بھی زیادہ تجربہ نہیں رکھتیں۔موجودہ و سابق انٹیلی جنس حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نومنتخب صدر کو ان کے مشیر عالمی خطرات پر توڑ موڑ کر ایسے نظریات پیش کریں گے جن سے ان کے خیال میں ٹرمپ خوش ہوں گے اور غیر ملکی اتحادی اہم معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں گے۔مغربی ملک سے تعلق رکھنے والے ایک سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ سست روی کا شکار ہو سکتا ہے اور فائیو آئیز یعنی پانچ آنکھیں کہلانے والا انٹیلی جنس اتحاد بھی متاثر ہو سکتا ہے جس میں امریکاکے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کے اتحادیوں کو تشویش ہے کہ ٹرمپ کی تمام نامزدگیوں کا جھکائو غلط سمت کی طرف ہے۔