فتنہ الخوارج دنیاکی تمام دہشت گرد تنظیموں اور پراکسیز کی آماجگاہ بن چکی، افغانستان سے توقع ہے دہشت گردی کیخلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گا:جنرل عاصم منیر
عالمی سطح پر معیشت، افواج، ٹیکنالوجی میں بے انتہا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں‘ پرتشدد غیر ریاستی عناصر، ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی عالمی سطح پربڑا چیلنج ہے‘ بھارت کے انتہا پسندانہ نظریئے کی وجہ سے امریکہ ، برطانیہ اور کینیڈا میں بھی اقلیتیں محفوظ نہیں
پاکستان خطے، عالمی امن کیلئے اپنا مثبت کردار ہمیشہ ادا کرتا رہے گا، مقبوضہ جموں و کشمیر کا اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ناگزیر ہے:اسلام آباد میں مارگلہ ڈائیلاگ 2024 کی خصوصی تقریب سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک ) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے ٹیکنالوجی نے معلومات کے پھیلائومیں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ٹیکنالوجی سے گمراہ کن اور غلط معلومات کا پھیلائو ایک اہم چیلنج ہے۔ اسلام آباد میں مارگلہ ڈائیلاگ 2024 کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا عالمی سطح پر معیشت، افواج، ٹیکنالوجی میں بے انتہا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا پرتشدد غیر ریاستی عناصر، ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی عالمی سطح پربڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں دنیا کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، غلط اور گمراہ کن معلومات کا تیزی سے پھیلا واہم چیلنج ہے، پاکستان خطے، عالمی امن کے لیے اپنا مثبت کردار ہمشہ ادا کرتا رہے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے جامع بارڈر مینجمنٹ رجیم قائم کی گئی، ویژن عزمِ استحکام نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم جزو ہے، ویژن عزمِ استحکام کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہے۔ جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج دنیاکی تمام دہشت گرد تنظیموں اور پراکسیز کی آماجگاہ بن چکی، افغانستان سے توقع ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مشترکہ مقاصد میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی صحت کی فراہمی جیسے اہم چیلنجز شامل ہیں۔ پاکستان دنیا اور خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ دہشتگردی عالمی سطح پر تمام انسانیت کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا عزم غیر متزلزل ہے ۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ عزمِ استحکام نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم جزو ہے، جس کا مقصد دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہے، بھارت کے انتہا پسندانہ نظریے کی وجہ سے بیرون ملک خاص طور پر امریکا ، برطانیہ اور کینیڈا میں بھی اقلیتیں محفوظ نہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کا ظلم و بربریت بھی ہندوتوا نظریے اور پالیسی کا تسلسل ہے ۔ جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ناگزیر ہے، پاکستان نے ہمیشہ غزہ اور لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، پاکستان نے غزہ اور لبنان کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر متعدد بار امداد روانہ کی ہے، پاکستان نے ہمیشہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی عالمی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے مگر دنیا میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے