پاکستان کی تمام ایٹمی تنصیبات محفوظ ہیں عالمی جوہری توانائی ایجنسی بھارتی تنصیبات اور مواد کا جائزہ لیا جائے دفترخارجہ

بھارتی حملے کے دوران پاکستان کی جوہری تنصیبات سے کوئی تابکاری خارج نہیں ہوئی‘ پاکستان کی جوہری تنصیبات کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق نہیں:عالمی ایجنسی
غیرذمہ دارانہ بیان، بھارتی جارحیت کیخلاف پاکستان کی موثر دفاعی صلاحیت اور مزاحمتی حکمت عملی سے عدم تحفظ کا مظہر ہے، روایتی عسکری صلاحیت بھارت کو روکنے کیلئے کافی ہے:ترجمان

ویانا‘اسلام آباد(آئی این پی )عالمی ایٹمی توانائی ادارے (آئی اے ای اے) نے بھارت کا ایک اور بے بنیاد پروپیگنڈا مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے  پاکستان کی کسی ایٹمی تنصیب پر کوئی حملہ نہیں ہوا،پاکستان کی تمام ایٹمی تنصیبات کو محفوظ ہیں۔آئی اے ای اے کے ترجمان نے ایک  بیان میں کہا پاکستان کے تمام ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں اور تابکاری کے اخراج سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بھی مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ ترجمان نے کہا  بھارت کے حملوں کے دوران پاکستان کی تمام ایٹمی تنصیبات محفوظ رہیں، پاکستان کی جوہری تنصیبات سے کوئی تابکاری خارج نہیں ہوئی۔ پاکستان کی جوہری تنصیبات بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوظ ہیں اور کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔اس موقف کے بعد بھارت کی جانب سے پھیلائی گئی جھوٹی اطلاعات ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہیں۔دریں اثناء پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان کے جوہری اثاثوں سے متعلق  بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی ایٹمی توانائی ادارے سے بھارت میں ایٹمی تنصیبات اور مواد کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کا مطالبہ کردیا ہے ۔دفترخارجہ سے جاری   بیان  کے مطاقب ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ  مقبو ضہ کشمیر میں بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے دیا گیا  یہ غیر ذمہ دارانہ بیان بھارتی قیادت کی پاکستان کی موثردفاعی صلاحیت اور بھارت کی جارحیت کے خلاف مزاحمتی حکمت عملی سے عدم تحفظ کا مظہر ہے، پاکستان کی روایتی عسکری صلاحیت بھارت کو روکنے کے لیے کافی ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت خود ساختہ جوہری بلیک میل کے جنون میں مبتلا ہے، بھارتی وزیر دفاع کے ریمارکس بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مینڈیٹ اور ذمہ داریوں سے مکمل لاعلمی کا بھی ثبوت ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی چیز پر  آئی اے ای اے  اور عالمی برادری کو تشویش ہونی چاہیے تو وہ بھارت میں جوہری اور تابکار مواد کی بارہا چوری اور غیرقانونی اسمگلنگ کے واقعات ہیں