مٹی کا تیل ، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ، گھی ، کوکنگ آئل 20روپے کلو تک مہنگے

مہنگائی کے تابڑ توڑ حملے، عوام نکو نک 
 گھی کے 16 کلو کنستر کے نرخ 300 روپے تک بڑھے ، درجہ اول گھی اور کوکنگ آئل 600 روپے کلو تک پہنچ گیا،درجہ دوئم گھی اور تیل بھی مہنگے ،  مٹی کے تیل کی قیمت میں 39 روپے 20 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے 51 پیسے اضافہ کردیا گیا،پٹرول پر 105 روپے 37 پیسے، ڈیزل پر 55 روپے 24 پیسے لٹر لیوی برقرار
لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک )مہنگائی کے   تابڑ توڑ حملوں سے عوام نکوک ہو گئے ہیں ، گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 10 سے 20 روپے فی کلو اضافہ ہوگیا، مٹی کا تیل ، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ، کردیا گیا،مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی کے 16 کلو کنستر کے نرخ میں تقریباً 300 روپے تک اضافہ ہو ا ہے۔ درجہ اول گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت 10 روپے اضافے کے بعد تقریباً 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ۔ اسی طرح درجہ دوئم گھی اور تیل 20 روپے اضافے کے بعد 560 روپے فی کلو جبکہ درجہ سوئم گھی بھی 20 روپے اضافے کے بعد 540 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ۔قیمتوں میں اضافے کے باعث گھی کے 16 کلو والے کنستر کی قیمت بھی اوسطاً 320 روپے تک بڑھ گئی جس سے گھریلو صارفین پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ، ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتوں میں تیزی اس اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران عالمی مارکیٹ میں پام آئل کے نرخ 40 سے 60 ڈالر فی ٹن تک بڑھے ہیں اور عالمی مارکیٹ میں پام آئل 1100 ڈالر فی ٹن تک پہنچ چکا ۔مارکیٹ ذرائع کامزید کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب خوردنی گھی اور تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی کا دباؤ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔وفاقی حکومت نے لیوی کی مد میں مٹی کے تیل کی قیمت میں 39 روپے 20 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے 51 پیسے فی لٹر کا اضافہ کردیا جبکہ پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی کو برقرار رکھا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق پٹرول پر فی لٹر 105 روپے 37 پیسے اور ڈیزل پر 55 روپے 24 پیسے فی لٹر لیوی برقرار رکھا گیا ہے۔اسی طرح لائٹ ڈیزل بھی 67 روپے 51 پیسے فی لٹر مہنگا کردیا گیا ہے، لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 302 روپے 52 پیسے فی لتگرمقرر کی گئی ہے، قبل ازیں لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 235 روپے 1 پیسے تھی۔وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھ کر 23 ارب روپے کی سبسڈی ادا کرے گی، 23 ارب روپے کی سبسڈی 14مارچ سے 20 مارچ تک کے لیے ادا کی جائے گی، پٹرول پر فی لٹر 49 روپے 63 پیسے جبکہ ڈیزل پر فی لٹر 75 روپے 5 پیسے سبسڈی ادا کی جائے گی۔ یہ رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرنشیل کلیمز کی مد میں ادا کی جائیگی، 23 ارب روپے کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز اوگرا کی طرف سے ادا کیے جائیں گے۔وزارت توانائی نے بتایا کہ کابینہ سے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ قائم کرنے کی منظوری حاصل کر لی، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 27 ارب 10 کروڑ روپے اس فنڈ میں منتقل کرنے کی منظوری دی، پرائس ڈیفرینشل کی ادائیگی کے طریقہ کار میں او ایم سیز سے موصول ہونے والے بلوں کی تصدیق اور آڈٹ کا عمل بھی شامل ہوگا۔