پاکستان کے کردار کو برطانیہ کا خراج تحسین، غیر قانونی امیگریشن روکنے کیلئے مالی معاونت کا اعلان

پاکستان کے کردار کو برطانیہ کا خراج تحسین، غیر قانونی امیگریشن روکنے کیلئے مالی معاونت کا اعلان

اسلام آباد: برطانیہ کے وزیر برائے مشرق وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان ہیَمش فالکنر نے اسلام آباد کے دو روزہ دورے کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مشترکہ اقدامات بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے دورے کے دوران برطانوی وزیر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں پاک برطانیہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔برطانوی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور برطانیہ پائیدار امن کے لیے پاکستان سمیت دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔دورے کے دوران برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ جرائم، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مشترکہ اقدامات کے لیے 80 لاکھ پاؤنڈ کی اضافی مالی معاونت کا اعلان بھی کیا۔برطانوی حکومت کے مطابق یہ فنڈز سرحدی اور ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں اور غیر قانونی امیگریشن کے بنیادی اسباب کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

ہیَمش فالکنر نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان شراکت داری عالمی، علاقائی اور قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور دونوں ممالک دہشت گردی، ویزا فراڈ اور منظم جرائم کے خلاف قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نئی مالی معاونت کے ذریعے غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی اور اس کے اسباب کا خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ ایسے افراد کی واپسی میں بھی مدد دی جائے گی جنہیں برطانیہ میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔دورے کے دوسرے مرحلے میں برطانوی وزیر پاکستانی حکام کے ساتھ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے جاری مشترکہ اقدامات کا عملی جائزہ بھی لیں گے۔ اس دوران جعلی یا غیر حقیقی ویزا دستاویزات کی نشاندہی اور روک تھام کے نظام پر بریفنگ دی جائے گی۔برطانوی وزیر داخلی امور، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر حکام سے ملاقاتوں میں ویزا نظام کے غلط استعمال کی روک تھام اور تعلیمی شعبے میں تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت کریں گے۔

ہیَمش فالکنر نے پاکستان کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان سے بھی ملاقات کی، جس میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی، دہشت گردی کے خطرات اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانیہ نے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔