اسرائیلی حکومت نے ایران پر حالیہ حملے کے باوجود اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر تزاھی ہانیگبی نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ:"یہ جنگ ایرانی خطرے کا خاتمہ نہیں کر سکے گی۔"
حملے کے مقاصد اور ناکامی کا اعتراف:
تزاھی ہانیگبی نے واضح کیا کہ:ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔حالیہ فضائی حملے ایران کے جوہری پروگرام پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیے گئے تھے، مگر ان کا جوہری پروگرام ختم نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ صرف فوجی حملوں سے تہران کے جوہری عزائم کو روکا نہیں جا سکتا۔
امریکا کا کردار:
ہانیگبی کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی واحد شخصیت تھے جنہوں نے ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر مجبور کیا تھا۔ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ امریکہ کو ایران پر اسرائیل کے حملوں کا پیشگی علم تھا، جس سے دونوں ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا عندیہ ملتا ہے۔
ایرانی جوابی حملہ:
اتوار کی شب ایران نے اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ کیا، جس میں تقریباً 100 میزائل داغے گئے۔تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں زور دار دھماکے سنے گئے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس حملے میں 8 افراد ہلاک اور 92 زخمی ہوئے۔
اسرائیلی دباؤ اور عالمی ردعمل:
اسرائیلی سلامتی مشیر کے بیان کو مبصرین اعترافِ ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ان بیانات کے بعد خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ایران کا موقف ہے کہ اس کے حملے دفاعی نوعیت کے تھے اور اسرائیلی جارحیت کا جوابی ردعمل تھے۔
اقوام متحدہ اور سفارتی تناظر:
ایرانی قیادت اور وزارت خارجہ کے ترجمان پہلے ہی اقوام متحدہ سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کے حملوں کو "جارحیت" قرار دے۔ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کو بھی واضح پوزیشن لینی ہوگی کہ وہ سفارتکاری کے ساتھ ہے یا اسرائیلی جنگی عزائم کے ساتھ۔