نئے مالی سال میں "آسان کاروبار سکیم" کیلئے بجٹ میں بڑی رقم مختص کرنے کا فیصلہ

نئے مالی سال میں

ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے نئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں "چیف منسٹر پنجاب آسان کاروبار فنانس سکیم" کو وسعت دینے اور اس کے لیے 89 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دے دی ہے۔

 اس اقدام کا مقصد صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو خود روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

  اسکیم کی تفصیلات:
رواں مالی سال میں اسکیم کے لیے 9 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔آئندہ مالی سال میں یہ رقم بڑھا کر 89 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مستقبل میں اسکیم کی لاگت 100 ارب روپے تک جا سکتی ہے۔زیادہ سے زیادہ 3 کروڑ روپے تک کا قرضہ آسان شرائط پر دیا جائے گا۔
  قرض کی شرائط اور نظام:
قرض کی واپسی کی مدت 5 سال ہو گی۔نئے کاروبار کو 6 ماہ اور پرانے کاروبار کو 3 ماہ کا ریلیف دیا جائے گا۔قرض درخواست کی فیس: 5 ہزار اور 10 ہزار روپے مقرر۔واپسی کی قسط ہر ماہ کی یکم تاریخ کو ادا کرنا ہو گی، بصورت دیگر یومیہ ایک ہزار روپے جرمانہ عائد ہو گا۔چھوٹے کاروبار کے لیے 2 ارب روپے اور بڑے کاروبار کے لیے 7.17 ارب روپے مختص کیے گئے۔
  شفافیت و منظوری:
قرضہ فراہم کرنے کا حتمی فیصلہ پنجاب بینک کرے گا جو درخواست گزار کی مالی حیثیت کو دیکھ کر منظوری دے گا۔نادرا، ایف بی آر اور این ٹی این کے ذریعے درخواست دہندگان کی شناخت اور ڈیٹا ویریفیکیشن کی منظوری دی جا چکی ہے۔اسکیم کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کر دیا گیا ہے۔
  دیگر خصوصیات:
16 جنوری کو وزیراعلیٰ مریم نواز نے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔پنجاب کے انڈسٹریل اسٹیٹس اور سپیشل اکنامک زونز میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ٹریڈ باڈیز، ایسوسی ایشنز اور پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر شراکت داری کی جائے گی۔نوجوانوں کو کاروباری تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مالی مدد کے ساتھ تکنیکی اور انتظامی مہارتیں بھی حاصل کریں۔