سینیٹ قائمہ کمیٹی :آن لائن کاروبار سمیت دیگرکی رجسٹریشن کے قانون پر تحفظات کا اظہار

 چیئرمین ایف بی آرنے مسودہ ازسرنو تیارکرنے کی یقین دہانی کرادی‘ہم پاکستان میں کاروبارکرنیوالوں کوڈرارہے،شبلی فراز
 انٹرنیشنل پلیٹ فارم کو کام سے کیسے روکیں گے‘انوشے رحمان‘ رجسٹرڈ افراد کو مار رہے، غیر رجسٹرڈ لوگوں کو پکڑتے نہیں‘محسن عزیز
اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے آن لائن کاروباروں سمیت دیگرکی رجسٹریشن کے قانون پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے اور چیئرمین ایف بی آرنے مسودہ ازسرنو تیارکرنے کی یقین دہانی کرادی۔شبلی فرازنے کہا کہ ہم لوگوں کو پاکستان میں کاروبار کیلئے آنے سے ڈرا رہے ہیں۔انوشے رحمان نے کہا کہ آن لائن انٹرنیشنل پلیٹ فارم کو کام سے کیسے روکیں گے۔محسن عزیز نے کہا کہ رجسٹرڈ افراد کو مار رہے ہیں اور غیر رجسٹرڈ لوگوں کو پکڑتے نہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں فنانس بل 2025 میں شامل سیلز ٹیکس قانون میں ترامیم کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایاگیا کہ فنانس بل کے مطابق نان ریذیڈنٹ پرسن سمیت پاکستان میں ڈیجیٹل طریقے سے اشیاء فروخت کرنے والوں کو رجسٹریشن کرانا ہوگی، آن لائن مارکیٹ پلیس، ویب سائٹ یا سافٹ ویئر اپلیکیشن کے زریعے ڈیجیٹل کاروبار زد میں آئے گا، کپڑے، جوتے آن لائن فروخت کرنے والی کمپنیوں کو مقامی رجسٹریشن کرانا ہوگی، ای کامرس کرنے والے تمام آن لائن مارکیٹ پلیس اور کوریئرز بغیر رجسٹریشن کاروبار نہیں کر سکیں گے۔ پاکستان سے آن لائن آرڈر کی جانے والی اشیاء فروخت کرنے کیلئے رجسٹریشن لازمی قراردی گئی ہے ۔ کمیٹی ارکان نے رجسٹریشن کے حوالے سے مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کر دیاجس پر چیئرمین ایف بی آر نے اس حوالے سے مسودہ از سر نو تیار کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ارکان نے چھوٹے پیمانے پر آن لائن کاروبار کرنے والوں کو تحفظ دینے کی تجویز دی۔