لندن: برطانیہ میں پولیس نے 14 سالہ لڑکے کے خلاف دہشت گردی سے متعلق مقدمہ درج کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق کم عمر ملزم پر جنوبی لندن کی دو مساجد پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے اور مبینہ طور پر انتہا پسند دائیں بازو کی سوچ سے وابستہ ہونے کا الزام ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لڑکے کو گزشتہ ہفتے ایک گاڑی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس کی تلاشی کے دوران ایسے دستاویزات اور دیگر مواد برآمد ہوا، جن کی بنیاد پر اس کے خلاف دہشت گردی کی تیاری سے متعلق دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ ہیلن فلاناگن نے بیان میں کہا کہ یہ ایک کم عمر لڑکے کے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کا مقدمہ ہے، جس سے مقامی کمیونٹی اور عوام میں تشویش پیدا ہونا فطری ہے۔پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم مبینہ طور پر دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری کر رہا تھا۔ تاہم تاحال کسی بڑے یا منظم نیٹ ورک سے اس کے تعلق کے شواہد نہیں ملے۔
حکام کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر متعلقہ مساجد سے رابطہ کر لیا گیا ہے اور انہیں ضروری سکیورٹی تعاون اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ برسوں میں یورپ میں انتہا پسند دائیں بازو سے منسلک واقعات اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث برطانوی سکیورٹی ادارے ایسی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کریں۔ حکام کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔